پاکستان میں نوجوانوں کو صرف اعلیٰ تعلیم کے حصول میں ہی مسائل درپیش نہیں، بلکہ طب کی تعلیم کی تکمیل کے بعد روزگار کی تلاش اور تجربے کی غیر موجود گی بھی ان کے معاشی استحصال کا سب سے بڑا سبب بن جاتی ہے۔
پاکستان میں ڈاکٹرز کی تعلیم پر لاکھوں روپے خرچ کرنے والے نوجوان تجربے کے نام پر معاشی استحصال کا شکار ہو رہے ہیں۔ اسپتالوں میں تجربے کے نام پر بغیر تنخواہ کے کام کرنا پڑتا ہے، یہاں تک کہ تجربہ حاصل کرنے کے بعد بھی معمولی تنخواہ دی جاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک اوسط نجی یونیورسٹی میں میڈیکل کے طلبہ سے 50 لاکھ روپے سے زائد فیس وصول کی جاتی ہے، سرکاری میڈیکل کالجز میں یہ لاگت کم ہے، مگر کتابیں، ہاسٹلز اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں پر اخراجات ایک غریب فیملی کے طالب علم کے لیے مشکلات کا سبب بنتا ہے۔
مہنگی تعلیم اور طویل تربیت کے باوجود انتہائی کم تنخواہیں، ناقص ورکنگ کنڈیشنز، اور ملازمت کے عدم تحفظ کی وجہ سے نوجوان ڈاکٹرز مایوسی کا شکار ہیں اور بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرون ملک ہجرت کرنے پر مجبور ہیں، جو ملک کے ہیلتھ کیئر سسٹم کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
بیورو آف امیگریشن کے اعداد و شمار کے مطابق 1970 سے اب تک تقریباً 30 ہزار ڈاکٹرز پاکستان چھوڑ چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان سے ڈاکٹرز کے انخلا سے ملک میں صحت عامہ کے شعبے میں منفی اثرات رونما ہو سکتے ہیں۔
ندیم جعفر اے آر وائی نیوز سے وابستہ ایک ممتاز صحافی ہیں جو کہ مختلف سماجی اور سیاسی موضوعات پر رپورٹنگ کرتے ہیں۔ ندیم کراچی یونیورسٹی سے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر کی ڈگری اور آسٹریلیا کے ایک باوقار ادارے سے ایڈوانس سرٹیفیکیشن کے حامل
ہیں۔


