نوجوان نے اپنے ہی جنازے میں شرکت کرکے سب کو حیران کردیا young-man-surprised-everyone-by-participating-in-his-funeral
The news is by your side.

Advertisement

نوجوان نے اپنے ہی جنازے میں شرکت کرکے سب کو حیران کردیا

لاطینی امریکا کے ملک پیراگوئے کے رہائشی نوجوان نے اپنے ہی جنازے میں شریک ہوکر سب کو حیران کردیا، والدین جھلسی ہوئی لاش کو بیٹا سمجھ کر آخری رسومات ادا کررہے تھے۔

تفصیلات کے مطابق لاطینی امریکا کے ملک پاراگوئے کے چھوٹے سے گاؤں سانتا تریسا کے رہائشی 20 سالہ جان ریمن الفونسو پینایو نے جمعرات کے روز برازیل کی سرحد پر واقع اپنے آبائی گھر سے کام کے سلسلے میں نکلا تھا اور پھر واپس ہی نہیں آیا۔

پیراگوئے کی پولیس کا کہنا تھا کہ ریمن الفونسو پینایو جس گاؤں میں رہتا ہے وہ منشیات فروشوں اور اغواء کاروں کی پناہ گاہ ہے، وہاں سے لوگوں کا گمشدہ ہوجانا عام بات ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ جب پینایو کئی روز گزرنے کے باوجود اپنے گھر واپس نہیں آیا تو اس کے والدین سمجھ گئے کہ ان کا بیٹا کسی مصیبت ہے یا پھر کسی منشیات فروش گروہ کے ہاتھوں لقمہ اجل بن چکا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق پولیس نے پینایو کی تلاش شروع کی تو اہلکاروں کو اتوار کے روز بری طرح جھلسی ہوئی ایک لاش ملی جسے پولیس نے پینایو کی نعش سمجھ کر اہل خانہ کے حوالے کردیا۔

جان ریمن پینایو کے والدین نے اپنے 20 سالہ بیٹے کی آخری رسومات کی تیاریاں شروع کی، جس میں اہل علاقہ اور خاندان کے افراد بڑی تعداد میں شریک تھے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ پینایو 3 روز بعد اپنے گھر لوٹا تو اہل خانہ لاش کے ہمراہ بیٹے کا سوگ منا رہے تھے، بیٹے جو زندہ دیکھ کر والدین بے قابو ہوگئے اور جذبات پر قابو نہ رکھ سکے، دوسری جانب جنازے میں شریک دیگر افراد پینایو کو زندہ دیکھ کر حیران رہ گئے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پنیایو کے گھر والوں نے بیٹے کے صحیح سلامت گھر واپس آجانے کے بعد نامعلوم نعش مردہ خانے کے حوالے کردی۔

پیراگوئے کے پولیس حکام کا کہنا تھا کہ تاحال مذکورہ نعش کی شناخت نہیں ہوسکی ہے، اگر اس لاش کا کوئی عویدار سامنے نہیں آتا تو اسے نا معلوم افراد میں شمار کیا جائے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ جان ریمن پینایو تین دنوں تک کہاں تھا اور کیا کررہا تھا اس بارے کچھ معلوم نہیں ہوسکا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں