کراچی (10 مارچ 2026): سابق کپتان یونس خان کا کہنا ہے کہ اگر 20 لاکھ جرمانے کی خبر سچ ہے تو قومی کھلاڑی اس پر اسٹینڈ لیں۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق پاکستان کو 2009 کا ٹی 20 ورلڈ کپ جتوانے والے سابق کپتان یونس خان اور راشد لطیف نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی سی بی پر تنقید کی ہے۔
یونس خان نے ورلڈ کپ کے بعد کھلاڑیوں پر 50 لاکھ جرمانے کو قومی کرکٹرز سے زیادہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ خبر سچ ہے تو پھر کھلاڑیوں کو اس پر اسٹینڈ لینا چاہیے۔
سابق کپتان نے بتایا کہ 2003 کے ورلڈ کپ کے بعد جب راشد لطیف کپتان تھے تو ایسا ہی ہوا تھا۔ کپتان سمیت کھلاڑیوں کو کہا گیا تھا کہ الاؤنس اور میچ فیس میں کٹوتی ہوگی۔ اس وقت اس فیصلے پر کھلاڑیوں نے آواز اٹھائی تھی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کرکٹ دنیا بھر میں بدل چکی ہے۔ کھلاڑی کا کام اب صرف چوکے چھکے مارنا نہیں بلکہ پورے 20 اوورز بھی کھیلنا ہے۔
یونس خان نے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں بے تحاشہ با صلاحیت کھلاڑی موجود ہیں۔ اس حوالے سے صاحبزادہ فرحان ہم سب کیلیے ایک مثال ہیں۔ جو باصلاحیت کھلاڑی ہیں انہیں ضرور موقع دینا چاہیے۔
ایک اور سابق کپتان راشد لطیف نے پی سی بی کے جرمانوں پر کہا کہ کمزور بورڈ ہی کھلاڑیوں پر بھاری جرمانے عائد کرتے ہیں۔ میڈیا کو ٹرک کی بتی پیچھے لگا دیا گیا ہے جب کہ ہونا کچھ بھی نہیں ہے۔ سینٹرل کنٹریکٹ میں ہر چیز واضح کی جاتی ہے۔
راشد لطیف کا یہ بھی کہنا تھا کہ موجودہ سلیکٹرز خود تجربہ کار نہیں، وہ ٹیم سلیکٹ کر کے سب کو حیران کر دیتے ہیں۔ ورلڈ کپ میں پاکستان کی پرفارمنس دیکھ چکے اب کیا بنگلہ دیش ٹور دیکھیں گے۔
علی حسن اے آروائی نیوز سے اسپورٹس رپورٹر کی حیثیت سے وابستہ ہیں اور کھیلوں کے معاملات میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں


