آج کل بچوں میں بولنے کے مسائل تواتر سے پیش آرہے ہیں، اس کی کی کچھ علامات اور نشانی ہوتی ہیں جس سے اسکا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
بچے اگر مسائل کا شکار ہوں تو ان سے زیادہ یہ بات والدین کےلیے تکلیف دہ ہوتی ہے، بچے کی بات کرنے کی صلاحیت میں کمی، بیماری کی وجوہات، علامات اور اسکے علاج کے بارے میں اگر والدین یا بڑوں کو اہم معلومات مل جائیں تو یہ بچوں کےلیے کافی فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہیں۔
بچوں کے بولنے کے مسائل کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟
بچے کا دیر سے بولنا یا بولنے کی صلاحیت میں کمی بولنے کے مسائل کی نشاندہی کرتی ہیں، بعض دفعہ یہ ہوتا ہے بچے کی سمجھ میں والدین یا بڑوں کی زبان نہیں آتی یا اسے الفاظ کی ادائیگی میں مشکل پیش آ رھی ھوتی ہے، بولنے کے مسائل میں ھکلانا یا تتلاہٹ بھی شامل ھے۔
بولنے کے مسائل کی علامات اور نشانات
بچے کی نارمل بول چال کی ترقی میں بہت سے اہداف آتے ہیں، یہ ہدف یا سنگ میل ہر بچے کے لیے مختلف ہوتے ہیں لیکن عام طور پر یہمندرجہ ذیل ہوتے ہیں:
پیدائش کے بعد 8 سے 13 ماہ کے دوران کی جانے والی حرکات
اشیا کی طرف اشارہ کرنا
سر کے اشارے سے ‘نہیں’ کہنا
ھاتھ اٹھا کر بائی بائی کہنا
الفاظ کی طرح کی آوازیں نکالنا
بڑٰوں کی آوازوں کی نقل کرنا
12 سے 18 ماہ
یہ عرصہ بچے کےلیے اہم ہوتا ہے، اس عرصے کے دوران بچہ اپنے لفظوں کی لغت میں اضافہ کرتا ہے، مثال کے طور پر جب کوئی بڑا کسی شے کا نام لیتا ہے تو بچہ اس طرف اشارہ کرتا ہے۔
ایک لفظ یا چند چھوٹے جملے یا الفاظ سمجھتا ہے
اشیا کے 10سے 15 نام لیتا ھے
18 سے 24 ماہ
سادہ سوالات اور ہدایات دینا شروع کر دیتا ہے
دو لفظوں کو ملا کر جملہ بنانے کی کوشش کرتا ہے
بچہ جب بولنے کی کوشش کرتا ہے تو اپنی لغت کو بڑھانے کی کوشش کرتا ھے اور اس میں 200 الفاظ کا اضافہ کرتا ہے
انکار کرنا سیھکتا ہے جیسے ‘نو جوس’ وغیرہ
24 سے 36 مہینے
دوس سال کے بعد اس عرصے کے دوران بچہ تین لفظی جملے بنانا شروع کر دیتا ہے، وقت کے ساتھ جملے کی تھوڑے طویل ہوجاتے ہیں، گرا ئمردرست ہونا شروع ہوتی ہے۔، کچھ اور چیزیں بچے میں نمایاں ہوتی ہیں۔
حرف جار کا استعمال جیسے کہ ‘ان’ اور’ آن’
آئِ این جی یعنی گو کے ساتھ گوینگ لگانا
جملے میں فعل کا استعمال جیسے "وہ کھیل سکتا ھے
جمع کا صیغہ استعمال کرنا جیسے ایک کتے کے بجائے زیادہ کتے
جملے میں ‘اے’ اور ‘دی’ کا استعمال
اسم ضمیر کا استعمال، جملوں کے درمیان میں جوڑ لگانا جیسے ‘وہ لڑکا’ ‘نہیں’ ‘ اور’ کا استعمال
آپکا بچہ مشکل مواقع پر زبان کا استعمال شروع کر دے گا اور جانوروں، کھلونوں اور مختلف چیزوں کے نام لینا شروع کردیگا۔
3 سے 5 سال
اس عمر میں کافی بچے تواتر سے بولنے لگتے ہیں، اب بچہ آپکی بات چیت کا زیادہ تر حصہ سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔ اس کے جملے اور کہانیاں زیادہ مشکل ہوتی جاتی ہیں، اس کی بول چال کی مہارت میں اضافہ ھو جاتا ہے۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ اس عمر میں بچہ سب کچھ سمجھتا ہے جو کچھ اس کو کہا جاتا ہے، تین سال کی عمر میں اسکی لغت میں 1000 الفاظ اور پانچ سال کی عمر میں 5000 الفاظ کا اضافہ ہو جاتا ھے
3 سال کی عمر میں بچہ جب کسی انجان سے بات کرے گا تو اسے کافی چیزیں سمجھ آجائیں گی، وہ مشکل گرامر کا استعمال شروع کر دے گا جیسے کہ:
جملوں کو ایک دوسرے سے ملانے کی کوشش جیسے ‘اور’ کیونکہ’ کب’ لیکن’ وہ’ کیا’ اگر’ اچھا وغیرہ کا استعمال کرنے لگے گا۔
اسم ضمیر کا صحیع استعمال جیسے’ وہ لڑکی’ وہ لڑکا’ اسکا’ اسکی’ میرا’ انکی’
جملوں کی بے ترتیبی سے ادائیگی جیسے ‘وہ جا رھا کہاں’
معاون فعل لگا کر سوالیہ جملہ بنانا جیسے ‘ کیا وہ بیمار ھے؟’ وغیرہ
منفی حالتوں کا زیادہ استعمال جیسے ‘ نہیں کیا یا نہیں کرنا’
جمع کا صیغہ کا غلط استعمال جیسے ‘ میں بھاگا’ ‘ دو مرغابیاں’ وغیرہ
3 سے 5 سال کے درمیان آپ کا بچہ اس قابل ہو جاتا ھے کہ الفاظ کی ادائیگی شروع کر دے، بچے مندرجہ ذیل آوازیں نکالنے گے قابل ہو جاتے ہیں:
4 سال کی عمر میں: ڈبلیو، بی، ایف، جی، این جی، این
5 سال کی عمر میں: آئی، شے، چے، ایس، جے
6 سال کی عمر میں: زیڈ، آر
بولنے اور سیکھنے کی صلاحیت میں کمی کی وجہ خاندانی ھو سکتی ھے۔ بڑھوتڑی میں کمی بولنے میں دیری کا سبب بن سکتی ھے
اگر کوئی بچہ کم سنتا ہے تو
کم سننے کی وجہ سے آپکے بچے کی بولنے کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے، اگر آپکا بچہ صحیح نہیں سن رہا یا اسے کان میں بہت زیادہ انفیکشن ہے تو ڈاکٹر سے رابطہ کرنا ضروری ھے۔
چند دوسری وجوہات
بولنے کے مسلئے کی وجہ (آٹیزم) خود فکری یا خوش خیالی بھی ہو سکتی ھے ، ایسی دماغی بیماری جس میں اعضا شل ھو جاتے ھیں، اس سے بھی بولنے کی صلاحیت متاثر ہوجاتی ہے۔
ایسی بیماری جس میں جسم کے بڑھنے کا عمل متاثر ہوتا ہو وہ بولنے میں دشواری پیدا کرسکتی ہے، نومولود یا وقت سے پہلے پیدا ہو جانے والے بچوں کو اگر گردن توڑ بخار یا یرقان کی شکایت ہو تو ان کے سننے کی صلاحیت متاثر ہو جاتی ہے۔
آپ کے بچے کا ڈاکٹر کیا مدد دے سکتا ہے؟
ڈاکٹر بچے کے بولنے کے مسلئے کا اندازہ لگائےَ گا، علاج بیماری کی نوعیت اور شدت پر منحصر ہو گا، ہو سکتا ہے ڈاکٹر بچے کو بولنے کے ماھر پیتھالوجسٹ یا سپیشیلسٹ کے پاس بجھوا دے۔، وجہ کوئی بھی ھو، علاج ضروری ھے
اگر کم بولنے یا سننے کی وجوہات کوئی اور ہیں جیسے کہ آٹیزم یا خود فکری وغیرہ تو ان کا علاج ہونا بھی ضروری ہے، ایسے بچے جنھیں بولنے کے مسائل کا سامنا ھے انھیں اسپیچ پیتھالوجسٹ کو دیکھانا ضروری ھے۔
طبعی امداد کی ضرورت کب پڑتی ھے؟
اپنے بچے کی بولنے کی صلاحیت اور زبان کی ترقی پر گہری نظر رکھیں، اگر آپ کے کچھ سوالات ہیں تو اگلی ملاقات میں اپنے ڈاکٹرسے بات کریں۔، جتنی جلدی ہو سکے ڈاکٹر سے ملاقات کو یقینی بنائِیں
اہم نکات جنھیں سمجھنا ضروری ہے
مختلف بچوں میں بولنے کی ترقی کی رفتار مختلف ہوتی ھے، ایسے بچے جن میں دیر سے بولنے کا خدشہ پایا جاتا ہے ان کی فوری تشخیش ہونا ضروری ھے ، تلفظ میں مشکل یا ہکلاہٹ، پانچ سال کی عمر تک نارمل ہو سکتی ھے۔، جن بچوں کو صاف بولنے کا مسئلہ در پیش ہوتا ہے ان کےلئِے اسپیچ تھراپی مدد گار ثابت ہوتی ھے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


