نوجوانوں کے نزدیک فیس بک قابل بھروسہ نہیں رہا، رپورٹ
The news is by your side.

Advertisement

نوجوانوں کے نزدیک فیس بک قابل بھروسہ نہیں رہا، رپورٹ

سانسس فرانسسکو: امریکی تحقیقاتی ادارے نے انکشاف کیا ہے کہ نوجوانوں کی بڑی تعداد سماجی رابطے کی سب سے بڑی ویب سائٹ فیس بک سے اکتا گئی  جس کی وجہ سے وہ اب دیگر سوشل سائٹس استعمال کررہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق امریکا میں کی گئی حالیہ تحقیق میں حیران کُن انکشاف اُس وقت سامنے آیا کہ جب سوشل میڈیا استعمال کرنے کے حوالے سے اعداد و شمار کی رپورٹ مرتب کی گئی۔

تحقیق میں انکشاف ہوا کہ سن 2015 کے مقابلے میں نوجوان فیس بک استعمال کرنے میں عدم دلچپسی ظاہر کررہے ہیں یہی وجہ ہے کہ اب اُن کی تعداد میں 20 فیصد نمایاں کمی واقع ہوئی۔

نجی تحقیقاتی ادارے پیو ریسرچ سینٹر کی جانب سے جاری کردہ سروے رپورٹ کے مطابق تین سال کے تقابلی جائزے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ فیس بک پر نوجوان صارفین کی تعداد 71 فیصد سے کم ہوکر 51 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ سوشل میڈیا کی دیگر ایپس انسٹاگرام اور اسنیپ چیٹ کی مقبولیت میں بالترتیب 72 اور 69 فیصد اضافہ ہوا۔

مزید پڑھیں: فیس بک اور واٹس ایپ کے استعمال پر ٹیکس عائد

رپورٹ کے مطابق 12 سال سے 17 برس کی عمر کے صارفین جن میں لڑکے اور لڑکیاں شامل ہیں انہوں نے فیس بک کا استعمال ڈیٹا لیک ہونے اور دیگر وجوہات کی بنا پر چھوڑا جبکہ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھنے میں اُن کی دلچسپی خاصی حد تک بڑھ گئی۔

تحقیقاتی ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر نوجوانوں کی بڑی تعداد اتنی ہی تیزی کے ساتھ فیس بک کو خیرباد کہتی رہی تو ایک برس بعد سوشل میڈیا کی سب سے بڑی ویب سائٹ کے 20 لاکھ سے زائد صارفین کم ہونے کا خدشہ ہے۔

واضح رہے کہ تحقیقاتی رپورٹ صرف امریکا کے نوجوانوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مرتب کی گئی ہے، ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ 2016 میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات کے بعد فیس بک کو جن الزامات کا سامنا کرنا پڑا اور اُس کے بانی نے خود بھی صارفین کے ڈیٹا کے استعمال کا انکشاف کی اُس کے بعد لوگوں نے اس فارم پر اعتبار کرنا چھوڑ دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فیس بک نے ٹرینڈنگ فیچر ختم کرنے کا اعلان کردیا

دوسری جانب حیران کُن طور پر ان دو سالوں کے درمیان یوٹیوب، انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ اور ٹویٹر کے صارفین کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا جس کی بنیاد پر ماہرین کہتے ہیں کہ اب صارف فیس بک کے علاوہ دوسرے پلیٹ فارم کے استعمال کو فوقیت دیتا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں