The news is by your side.

خطّاطِ‌ اعظم اور بٹیر

فنِ ‌خطاطی میں محمد یوسف دہلوی پاک و ہند میں استاذُ الاساتذہ تسلیم کیے جاتے ہیں جنھوں نے اپنے تخلیقی وفور اور اختراعی صلاحیتوں سے خوب کام لیا اور خطِ نستعلیق کی دل کش طرز ایجاد کی جو ” دہلوی طرزِ نستعلیق” مشہور ہے۔ انھیں‌ خطّاطِ‌ اعظم بھی کہا جاتا ہے۔

محمد یوسف دہلوی کے والد بھی مشہور خوش نویس تھے اور یہ فن انھیں‌ گویا وراثت میں ملا تھا، جسے نکھارنے اور سنوارنے میں‌ یوسف دہلوی نے ساری عمر گزار دی۔

یوسف صاحب اپنے فن میں‌ یکتا اور غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل تھے اور اس حوالے سے متعدد واقعات بھی مشہور ہیں۔ یہاں ہم ایک ایسا ہی واقعہ پیش کررہے ہیں جس کے راوی محمد یوسف دہلوی کے ایک شاگرد نسیمُ الحق عثمانی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

"یوسف صاحب جب دہلی بلّی ماراں کے ایک کوٹھے پر بیٹھتے تو اس وقت کے ممتاز خطاط وہاں روزانہ حاضری دیتے۔ حضرت باقی امروہوی جو نہ صرف بہت اچھّے خوش نویس تھے بلکہ ایک بلند پایہ شاعر بھی تھے، آپ کے بے تکلّف دوستوں میں سے تھے۔

ایک روز سب دوستوں کے مشورے سے باقی صاحب نے یوسف صاحب کے سامنے خطّاطی کے ایک مقابلے کی تجویز رکھی اور کہا کہ ناکام ہونے والے کو ہم سب کو بٹیر کھلانا ہوگا۔ یوسف صاحب نے یہ شرط منظور کر لی۔ طے یہ پایا تھا کہ سب دوست وقتِ معینہ پر دریائے جمنا کے کنارے پہنچیں‌ گے۔ ایسا ہی ہوا۔ وہاں‌ سب سے پہلے یوسف صاحب نے لکھنا شروع کیا اور مچھلی کے شکار کی چھڑی سے اردو حروف تہجّی (ا۔ ب۔ ج۔ د) لکھنے شروع کر دیے۔ ابھی س۔ ش تک ہی پہنچے تھے کہ کئی فرلانگ کا سفر طے ہو گیا۔ اس پر سب لوگوں نے کہا کہ خدا کے لیے بس کرو، تم جیتے اور ہم ہارے۔ لیکن یوسف صاحب کا تقاضا تھا کہ نہیں پورے حروف لکھے بغیر نہیں مانوں گا، خواہ آگرے تک جانا پڑے اور پھر بڑی منت سماجت کے بعد منشی جی اپنی ضد سے باز آئے اور بعد میں فرمایا کہ اس ریت پر جو حروف میں نے لکھے ہیں اس کی تصویر جہاز کے ذریعے لے لی جائے اور تصویر میں اگر کوئی حرف فنِ خطاطی کے اصولوں کے خلاف ہو تو میں خطا وار۔”

قیام پاکستان کے بعد یوسف دہلوی نے وزیراعظم لیاقت علی خان کے اصرار اور ڈاکٹر ذاکر حسین کی کوششوں سے پاکستان کے کرنسی نوٹوں پر خطّاطی کی اور بعدازاں سکّوں پر حکومتِ پاکستان کا خوب صورت طغریٰ اور خطّاطی کا کام سَرانجام دیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں