The news is by your side.

شعر و ادب میں‌ عاشقوں اور بادشاہوں کے علاوہ جانوروں اور پرندوں کا حصّہ

ہمارے ادیبوں اور شاعروں نے عاشقوں اور بادشاہوں کو ادب میں خاصا اونچا مقام دے رکھا ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ادب کا بیشتر حصہ انہی لوگوں پر صرف ہوا ہے۔

اس کا ہمیں کوئی خاص گلہ نہیں، کیونکہ جہاں تک عاشقانِ کرام یعنی فرہاد اور مجنوں کا تعلق ہے، ان دونوں نے عشق و عاشقی کے میدان میں واقعی قابلِ قدر کارنامے انجام دیے ہیں۔ دونوں کے دونوں نہایت دیانت دار، جفا کش اور مخلص عاشق تھے۔ ان میں عقل کچھ کم تھی تو کیا ہوا، دوسری خوبیاں تو بہرحال وافر مقدار میں تھیں۔ اس لیے ان کی خدمات کو بھلایا جانا ممکن نہیں۔ کسی میونسپل کارپوریشن یا ضلع پریشد کو تو ان کے مجسمے بنوا کر سڑکوں پر یا پارکوں میں کھڑا کرنے کی توفیق نہیں ہوئی کیونکہ عام طور پر اس قسم کے کمرشل ادارے عشق کی اہمیت سے ناواقف ہوتے ہیں۔ یا ممکن ہے فنڈز کی کمی کی وجہ سے ان سے یہ کام نہ ہوسکا ہو۔

اس میں شک نہیں کہ میونسپل ٹیکس مکانوں کی قیمت کے قریب قریب پہنچ گئے ہیں۔ تاہم فرہاد اور مجنوں کے مجسموں کے خرچ کی گنجائش نکلنی اب بھی مشکل ہے۔ شہری زندگی میں تو انہیں داخلہ مل نہیں سکا۔ اگر ادب میں بھی ان لوگوں کا ذکر نہ ہوتا تو معلوم نہیں انہیں یہ بات کتنی ناگوار گزرتی اور ان کی روحیں کتنا ایجی ٹیشن کرتیں۔

اسی طرح اگر چند بادشاہوں کو بھی ادب میں جگہ جگہ درج کردیا گیا ہے تو کچھ برا نہیں ہوا۔ کیونکہ بعض بادشاہوں سے بھی ‘بھولے ہی سہی’ کچھ نیک کام ضرور سرزد ہوئے ہیں۔ بعض بادشاہ تو عین رات کے وقت جو سب کے آرام کا وقت ہوتا ہے۔ بھیس بدل کر شہر کا دورہ کیا کرتے تھے کہ دیکھیں رعایا ٹھیک سے سوئی بھی ہے یا نہیں۔ (بادشاہوں کا چھپ کر، رعایا کی خانگی باتیں سننا منع نہیں تھا۔ رعایا پر البتہ اس کی پابندی تھی) ان بادشاہوں کو اپنی گشت کے موقع پر عموماً رعایا آرام کی نیند سوتی ملی (رعایا کو آرام کی نیند سلا دینے کا انتظام آج بھی ہے لیکن یہ انتظام اس زمانے کے انتظام سے قدرے مختلف بلکہ بہتر ہے، آج کے انتظام میں رعایا سو کر اٹھتی نہیں ہے) ان بادشاہوں کو کچھ رعایا موسیقی میں مگن ملی لیکن وہ موسیقی صرف چین کی بنسری کی موسیقی تھی جو رعایا خود ہی بجاتی اور خود ہی سنتی تھی (اس میں میوزک ڈائرکٹر نہیں ہوا کرتا تھا۔) بادشاہوں کا اس طرح بھیس بدل کر رعایا کی شکل کا ہوجانا اور وہ بھی اس مہارت سے کوئی پہچان ہی نہ سکے معمولی بات نہ تھی (مانا کہ اس زمانے میں رعایا اتنی ذہین نہیں تھی لیکن پہچانتے پہچانتے تو آج بھی چھ سال لگ ہی جاتے ہیں)۔ اس لیے اگر چند بادشاہوں کا ادب میں ذکر آگیا ہے تو اس میں ناراض ہونے کی کوئی بات نہیں بلکہ ایک لحاظ سے یہ اچھا ہی ہوا ورنہ ان کے ذکر کے بجائے کسی شاعر کی سات نظمیں نو غزلیں یا کوئی تبصرہ چھپ جاتا۔ یوں بھی ہر زبان کے ادب میں سرکشی کی داستانیں کم اور زر کشی کی وارداتیں زیادہ ہیں۔

لیکن ہمارے شاعروں اور ادیبوں نے عاشقوں اور بادشاہوں کے علاوہ چند جانوروں اور پرندوں کو بھی ادب میں غیر معمولی منزلت سے نوازا ہے اور یہ لوگ بھی ادب میں یوں درانہ چلے آئے ہیں۔ گویا ادب نہ ہوا غالب کا غریب خانہ ہوگیا۔ ان جانوروں میں سے دو تو ایسے ہیں جن کے ساتھ خصوصی رعایت برتی گئی ہے اور ان کے ساتھ اتنا امتیازی سلوک کیا گیا ہے کہ کیا کوئی ماں یا کوئی باپ اپنے بیٹے کے ساتھ کرے گا!

گھوڑا اور بلبل یہ دو افراد ایسے ہیں جنہوں نے ادب میں سب سے زیادہ جگہ گھیر رکھی ہے۔ ہماری ساری تشبیہات، استعارے، کنایے روز مرّہ ضرب الامثال اور محاورے انہی دو شخصیتوں کے گرد گھومتے ہیں اور بعض وقت تو یہ خوف ہونے لگتا ہے کہ آئندہ چل کر اگر کسی سیاسی دباؤ کی وجہ سے اردو کے رسم الخط کی طرح یہ بھی نظر میں آگئے اور ان دونوں کو ادب سے خارج کر دینا پڑا تو ادب میں سوائے مزاح کے اور بچے گا کیا؟

گھوڑا ہمارے ادب میں اور خاص طور پر شاعری میں اسی طرح بس گیا ہے کہ ادب ہی کا باشندہ معلوم ہونے لگا ہے۔ یہ جانور یوں بھی انسانوں سے بہت قریب رہا ہے۔ اتنا قریب کہ اسے ڈپٹی اشرف المخلوقات تو کہا ہی جاسکتا ہے۔ (لیکن زندگی کے اس شعبے میں ڈپٹی کا کوئی عہدہ ہے نہیں) گھوڑے کی ہم سے قربت کا یہ حال ہے کہ وہ ہماری سماجی، فوجی، سیاسی بلکہ ازدواجی زندگی تک میں دخیل ہے شادی کے موقع پر نوشہ گھوڑے ہی پر سوار ہوکر دلہن لانے جاتا ہے۔ گھوڑے پر بیٹھ کر نہ جانے والے دولہے کو دلہن تو خیر مل جاتی ہے لیکن جہیز نسبتاً کم ملتا ہے۔ سوئمبر کے جشن
میں بھی گھوڑے ہی نے مستحق اشخاص کی مدد کی ہے۔ اس کی فوجی اہمیت بھی مسلمہ ہے۔ کتنی ہی جنگیں انہوں نے ہرائی ہیں اور آج بھی گھوڑا جنگ کے میدان کا نہ سہی، ریس کے میدان کا تو ہیرو ہے ہی بلکہ ریس کے وجود میں آنے کی وجہ سے اس جانور کے شخصی وقار میں کافی اضافہ ہوا ہے۔

جنگ میں استعمال کیے جانے والے گھوڑوں کا شجرہ نہیں ہوا کرتا تھا لیکن ریس کے گھوڑوں کا شجرہ ہوا کرتا ہے اور جب تک ان کے حسب نسب کے بارے میں خاطر خواہ اطمینان نہیں کر لیا جاتا انہیں ریس کے میدان کے قریب بھی نہیں آنے دیا جاتا ہے۔ ہاں ان کے مالکوں کی بات اور ہے۔ گھوڑے کی اس افادیت اور وجاہت سے متاثر ہو کر ادیبوں اور شاعروں نے بھی اپنی ہر چیز کو گھوڑے سے نسبت دے رکھی ہے۔ شاعر اور ادیب اپنی ہر چیز کا انتساب گھوڑے ہی کے نام کرتے ہیں۔ وہ اپنے قلم کو صرف قلم نہیں کہیں گے کیونکہ قلم تو بچوں کے بھی ہوا کرتے ہیں۔ شاعروں کا قلم یا تو اسپ خامہ ہوتا ہے یا اشہب قلم۔ لکھنے کی رفتار چاہے کتنی ہی سست یا بے ڈھنگی کیوں نہ ہو وہ لکھیں گے اسپ خامہ ہی سے۔

پرندوں کو ادب میں اتنا اونچا مقام تو نہیں دیا گیا لیکن بلبل کو قریب قریب یہی رتبہ حاصل ہے۔ بات یہ ہے کہ بلبل جانور تو چھوٹا سا ہے لیکن کافی جاندار ہے اور دوسرے پرندوں کے مقابلے میں اس کی جمالیاتی حس بہتر ہے۔ آرٹ کے معاملے میں کی سوجھ بوجھ پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔ اس کی نظر خوب صورتی کو پہچانتی ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ خوب صورت پر اس کی اتنی ہی گہری نظر ہے جتنی ہمار ے بعض دانشوروں کی کافکا اور سارتر پر ہے۔ اس لیے عشق و عاشقی کے معاملے میں بلبل جسے عندلیب بھی کہاجاتا ہے، آدمی کے برابر تو نہیں دوسرے نمبر پر ضرور ہے اور چاندی کا تمغہ اس کا حق ہے۔

ہمارے ادب میں مرغ بھی موجود ہے (بلکہ یہ دنیا ہی "جہانِ مرغ و ماہی” ہے۔) لیکن یہ مرغ انگریزی زبان کا وہ ٹیبل برڈ نہیں ہے جو لذّتِ کام و دہن کے کام آتا ہے۔ انگریزی ادب کا جو جستہ جستہ مطالعہ ہم نے کیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے ادب میں بھی جانور بکثرت موجود ہیں بلکہ ان کے ہاں بارش بھی ہوتی ہے تو کتے اور بلیاں برسا کرتی ہیں، ہر مالِ غنیمت میں ان کا حصہ شیر کے حصے کے برابر ہوتا ہے۔ وہ لوگ اتنے چوکنے رہتے ہیں کہ بلی کی نیند سوتے ہیں۔ ان کے ہاں بیل کی آنکھ بھی ادب میں داخل ہے اور جب تک وہ کوئی بات خود گھوڑے کے منہ سے نہیں سنتے اس پر یقین نہیں کرتے۔

(ہندوستان کے معروف مزاح نگار اور مصنّف یوسف ناظم کی کتاب "البتہ” سے انتخاب)

Comments

یہ بھی پڑھیں