جمعرات, دسمبر 11, 2025
اشتہار

جینے کی اہمیت اور آرزوئے امن

اشتہار

حیرت انگیز

لین یوتانگ کی مشہور تصنیف The Importance Of Living بنیادی طور پر قدیم فکر و دانش کو بنیاد بنا کر مختلف حوالوں سے جینے کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ چین کے اس مصنّف کی یہ کتاب 1937ء میں شایع ہوئی تھی جس کا بعد میں بشمول اردو متعدد زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔ یہ کتاب آج کی انسانی تہذیب کو ان قدروں سے رنگنے پر آمادہ کرسکتی ہے جن کی اہمیت رفتہ رفتہ گھٹتی چلی گئی اور آج دنیا ان سے یکسر محروم ہوچکی ہے۔

اس کا اردو ترجمہ معروف پاکستانی شاعر، نقّاد، ڈراما نویس اور مترجم مختار صدیقی نے ’ جینے کی اہمیت‘ کے عنوان سے کیا تھا جس سے ایک اقتباس ہم یہاں‌ پیش کررہے ہیں۔ یہ اقتباس کنفیوشس (Confucius) کی فکر و دانش سے آراستہ ہے جو چین کا مشہور فلسفی اور دانا گزرا ہے۔ اس کی اخلاقیات پر مبنی تعلیم سے نہ صرف چینی معاشرہ مستفید ہوا بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں باشعور و سنجیدہ طبقات اس سے متاثر ہوئے۔ اقتباس ملاحظہ کیجیے۔

کنفیوشس نے عالمگیر امن کے سوال کو افراد کی ذاتی زندگی کی تربیت سے وابستہ کیا تھا۔ سونگ خاندان کے وقت سے آج تک کنفیوشس خیالات کے علماء اور استاد بچّوں کو جو پہلا سبق پڑھاتے ہیں، اس میں مندرجہ ذیل فقرے آتے ہیں اور بچّے کو یہ سبق حفظ کرایا جاتا ہے:

”قدیم لوگوں کا دستور تھا کہ اگر دنیا میں اخلاقی ہم آہنگی کی تمنا کرتے، تو یہ کہتے کہ سب سے پہلے ہمیں خود اپنی قومی زندگی کی تنظیم کرنی چاہیے۔ قومی زندگی کی تنظیم کرنے والے سب سے پہلے گھریلو زندگی کو باقاعدہ بناتے۔ جو لوگ گھریلو زندگی کو منظّم بنانا چاہتے، وہ سب سے پہلے ذاتی زندگی کی تربیت و تہذیب چاہتے۔ وہ سب سے پہلے اپنے دلوں کو پاک صاف کرتے…. دلوں کو پاک صاف کرنے کی خواہش کرنے والے سب سے پہلے نیتوں کو مضبوط بناتے۔ نیتوں کو مخلص بنانے والے سب سے پہلے سمجھ اور مفاہمت پیدا کرتے اور سمجھ، اشیا کے علم کی چھان بین سے پیدا ہوتی ہے۔ جب اشیا کا علم حاصل ہو جائے تب سمجھ پیدا ہوتی ہے، اور سمجھ پیدا ہو جائے تو نیت اور ارادہ مخلص ہو جاتا ہے اور جب نیت صاف اور ارادہ مخلص ہو جائے تو دل صاف ہو جاتا ہے۔ جب دل صاف ہو جائے تو ذاتی زندگی کی تہذیب اور تربیت پوری ہو جاتی ہے۔ ذاتی زندگی کی تربیت اور تہذیب ہو جائے تو گھریلو زندگی منظّم اور باقاعدہ ہو جائے گی۔ اور جب گھریلو زندگی منظم ہو گی تو قومی زندگی بھی منظم ہو جائے گی۔ اور جب قومی زندگی منظم ہو گی تو دنیا میں امن و امان کا دور دورہ ہو گا۔

گویا شہنشاہ سے لے کر ایک عام آدمی تک ہر چیز کی بنیاد اس بات پر ہے کہ ذاتی زندگی کی تربیت اور تہذیب کی جائے یہ ممکن ہی نہیں کہ بنیاد باقاعدہ اور ٹھیک نہ ہو تو ساری عمارت ٹھیک اور باقاعدہ ہو۔ دنیا میں ایسا کوئی درخت موجود نہیں جس کا تنا تو کمزور اور نازک ہو اور اس کی اوپر کی ٹہنیاں بے حد بھاری بھرکم اور مضبوط ہوں۔ اس کائنات کی ہر چیز کی کوئی نہ کوئی علّت موجود ہے اور ہر چیز کا دوسری کے ساتھ تعلق اٹل ہے۔ اسی طرح انسانی معاملوں میں بھی ابتدا اور انتہا دونوں موجود ہیں، لیکن ان درجوں کا جاننا،ان کی تقدیم اور تاخیر کا علم حاصل کرنا یہی دانش مندی کی ابتدا، اس کی دہلیز ہے۔“

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں