The news is by your side.

Advertisement

ذوالفقارعلی بھٹو کے بارے میں 6 اہم حقائق

 پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی اورپاکستان کے نویں وزیرِاعظم ذوالفقارعلی بھٹو کی 39 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔ذوالفقارعلی بھٹو 5 جنوری 1928 کو لاڑکانہ میں پیدا ہوئے، کون جانتا تھا کہ وہ بین الاقوامی قد آور سیاسی شخصیت کے روپ میں اُبھر کر سامنے آئیں گے، ان کے والد سر شاہ نواز بھٹو بھی سیاست کے میدان سے وابستہ رہے تھے۔

ذوالفقارعلی بھٹو کو ہمہ جہت شخصیت تھے ‘ اوران کی ذات کئی صلاحیتوں کا مجموعہ تھی‘ آج ان کی برسی کے موقع پر ہم آپ سے شیئر کررہے ہیں کچھ ایسی باتیں جو شاید آپ ان کےبارے میں نہیں جانتے ہوں گے۔

ابتدائی تعلیم


سندھ سے تعلق رکھنے والے دیگرسیاسی رہنماؤں کی نسبت ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی ابتدائی تعلیم کراچی کے بجائے ممبئی ( اس وقت بمبئی کہلائے جانے والے) شہر کے  کیتھڈرل اینڈ جان کینن اسکول سے حاصل کی‘ بعد ازاں وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکا چلے گئے جہاں انہوں نے بارکلے یونی ورسٹی سے پالیٹیکل سائنس میں بی اے کیا۔

  کیتھڈرل اینڈ جان کینن اسکول

ایرانی شریکِ حیات


پاکستان میں مادرِ جمہوریت کا لقب رکھنے والی نصرت بھٹو جو کہ ذوالفقار علی بھٹو کی دوسری بیوی تھیں‘ در اصل ایک ایرانی النسل کردش خاتون تھیں۔ ان کے والد بمبئی میں کاروبار کی غرض سے مقیم تھے اور تقسیم سے قبل کراچی آگئے تھے۔ ان کا تعلق ایران کے شہر اصفہان کے مشہور حریری خاندان سے تھا‘ جو کہ کاروبار کے سبب شہرت رکھتا تھا۔

ذوالفقار علی بھٹو کے وزرات عظمیٰ کے دور میں جب وہ خاتون اول نصرت بھٹو کے ساتھ ایران گئے تو اس وقت شاہ ایران رضا شاہ پہلوی نے ان دونوں کا استقبال کیا تاہم ان کی ملکہ فرح دیبا وہاں موجود نہیں تھیں، کیونکہ شاہی قوانین کے مطابق ملکہ‘ ایران کے کسی عام شہری کا استقبال یا اس کی میزبانی نہیں کرسکتی تھیں۔

نصرت بھٹو

بے نظیر بھٹو کے بارے میں 6 دلچسپ حقائق

ذوالفقارعلی بھٹو کے بھائی


عام خیال یہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو اپنے والد سر شاہنواز بھٹو کی اکلوتی اولاد تھے اور اسی سبب  یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اب شاہنواز بھٹو کی نسل ختم ہو چکی ہے۔ درحقیقت  زلفی بھٹو کے دو اور بھائی بھی تھے۔ ان کے سب سے بڑے بھائی سکندر علی  محض سات سال کی عمر میں نمونیا کے سبب انتقال کرگئے تھے جبکہ منجھلے بھائی عارضہ جگر کے سبب 39 سال کی عمر میں انتقال کرگئےَ ذوالفقار علی بھٹو اپنے والد کی تیسری اولادِ نرینہ تھے۔

شاہنواز بھٹو اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ

سب سے کم عمر وزیر


سنہ 1957 میں ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کی جانب سے امریکا جانے والے وفد کے سب سے کم عمر ترین رکن بنے اور انہوں نے وہ اقوامِ متحدہ کی کمیٹی سے خطاب بھی کیا‘ آئندہ برس سنہ 1958 میں انہوں نے سمندری قوانین کے حوالے سے اقوام متحدہ کے زیرِ اہتمام کانفرنس میں پاکستان کے وفد کی قیادت بھی کی۔ اسی سال  صدر اسکندر مرزا کی حکومت میں انہیں وزارتِ تجارت نامزد کیا گیا ‘ یوں وہ پاکستان کے کم عمر ترین وفاقی وزیر قرار پائے۔

جوان بھٹو عمر رسیدہ فلسفی برٹینڈرسل کے ہمراہ

چین سے روابط


امریکا کے بجائے چین  اورسے روابط قائم کرنا بھی ذوالفقارعلی بھٹو کے ویژن کا حصہ تھا جس کے ثمرات آج ہم سی پیک کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان کے چین کے ساتھ تعلقات اقوامِ عالم کے لیے بھی سود مند ثابت ہوئے اور اسی پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے امریکی  صدر نکسن نے چین کے ساتھ تعلقات اختیار کیے۔

چینی وزیر اعظم چو این لائی کے ہمراہ

کرپشن فری سیاست داں


ذوالفقار علی بھٹو کا شمار پاکستان کے ان گنے چنے سیاست دانوں میں ہوتا ہے جن پر ان کے دورِ حکومت میں کرپشن کا کوئی بھی الزام عائد نہیں کیا گیا ۔ مارشل لاء کے بعد  عدالت نے انہیں ایک سیاسی مخالف احمد رضا قصوری کے قتل کے الزام میں سزائے موت دی گئی۔ بعد ازاں  وقت نے عدالت  کے اس فیصلے کو غلط ثابت کیا   جس کا اعتراف بھی کیا گیا۔

ذوالفقار علی بھٹو کی یادگار تصویر

خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں