ہفتہ, فروری 14, 2026
اشتہار

زیڈ اے بخاری کی ‘انگریزیت’

اشتہار

حیرت انگیز

سید ذوالفقار علی بخاری کو اردو ادب اور براڈ کاسٹنگ کی دنیا میں بھی زیڈ اے بخاری کے نام سے شہرت و مقام حاصل ہے، جنھوں نے اپنی آپ بیتی جو 1966ء میں کتابی شکل دی تھی۔ بخاری صاحب کے بھائی بھی اپنے وقت کے مشہور مزاح نگار تھے اور پطرس بخاری کے نام سے ان کو یاد کیا جاتا ہے۔ یہ دونوں بھائی انگریزی زبان اور کلچر سے متاثر تھے۔ یہ اقتباس جو ہم یہاں‌ نقل کررہے ہیں زیڈ اے بخاری کی آپ بیتی سے لیا گیا ہے۔ یہ مصنف کے شگفتہ طرزِ بیان کے ساتھ بڑی ہی دل چسپ روداد ہے۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب پطرس بیرونِ ملک حصولِ تعلیم کے لیے گئے ہوئے تھے۔ ادھر زیڈ اے بخاری پر نے مغربی کلچر کو اپنانے کا فیصلہ کیا اور کچھ سوچ کر اپنے گھر کا نقشہ بدل دیا۔ یہی نہیں بلکہ اپنے اہلِ خانہ کے طرزِ زندگی کو بھی مغربی طور طریقوں میں رنگنے کی کوشش کی۔ اس حوالے سے یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے۔

ہماری جوانی اور نوجوانی کے زمانے میں سروں پر انگریزیت کا بھوت سوار تھا۔ پشاور کے ہر بازار اور ہر کونے میں گھر کے بھیدی رہتے تھے۔ ان کے سامنے تو انگریزیت بگھارنے کی جرأت نہ پڑی البتہ جب ملازمت کے سلسلے میں شملے آیا تو میں کھل کھیلا۔ صرف چہرے پر گلٹ نہیں کرایا، باقی سب وضع انگریزوں کی اختیار کی۔

جب ملازمت کے سلسلے میں شملے گیا تو انگریزوں سے بڑھ چڑھ کر انگریزیت کا پرستار ہو گیا۔ فرش پر بیٹھ کر ہاتھ سے کھانا ترک کر دیا۔ میز کرسی چھری کانٹے مہیا کئے۔ بیرا خانساماں ملازم رکھا۔ بیرا کو وردی بنوا کر دی۔ اس کی کمر میں رنگین نواڑ کی پیٹی بندھوائی۔ پگڑی میں چپراس لگوائی۔ اور اس پر بخاری کا پہلا حرف "بی” پیتل کا ڈھلوا کر لگوایا۔

میری انگریزیت نری میری حماقت نہ تھی۔ اس میں کچھ محبت بھی شامل تھی۔ بھائی احمد شاہ کی محبت۔ یہ 1925ء، یا 1926ء کی بات ہے۔ بھائی احمد شاہ کیمبرج میں تعلیم پانے گئے اور بیوی بچوں کو میرے پاس چھوڑ گئے۔ میں نے دل میں سوچا بھائی پہلی مرتبہ انگلستان گئے ہیں۔ وہاں کی تہذیب سے ضرور متاثر ہوں گے۔ اب دیکھئے واپسی پر کیسے گزارا ہو۔ ہماری بھابھی پرانے فیشن کی خاتون ہیں، انگریزی سے نابلد، انگریزی طور طریقوں سے نا آشنا، خدا خیر ہی کرے۔ بھابھی کی گود میں دو بچّے ہیں، اگر خدا نخواستہ کوئی ایسی ویسی بات ہو گئی تو بھابھی تو صبر و شکر کر کے بیٹھ رہیں گی، ان چھوٹے چھوٹے بچّوں کا کیا ہو گا۔

میری بیوی بھی دیسی وضع کی اور میری بھابھی بھی۔ بہت سوچ بچار کے بعد میں نے بھابھی اور اپنی اہلیہ کو انگریزی پڑھنے کے لئے ایک اسکول میں بٹھا دیا۔ اسکول عیسائیوں کا تھا۔ میں نے یہ اسکول چنا ہی اس لئے تھا کہ عیسائیوں کا ہے اور نیز یہ کہ اس اسکول کی استانیاں ہر چند کہ سیاہ فام تھیں مگر انگریزیت میں گوریوں کے چراغ بھی ان کے سامنے نہ جل سکتے تھے۔ صبح دفتر جاتے وقت ان دونوں خواتین کو اور دونوں بھتیجوں کو ساتھ لے کر جاتا اور اسکول میں پہنچاتا اور شام ہوتی تو اس قافلے کو لے کر گھر آتا۔

گھر میں سب سے کہہ رکھا تھا کہ گفتگو صرف انگریزی زبان میں کی جائے۔ بھابھی کو خدا بخشے، ایک دن مجھے کسی بات پر اردو میں ڈانٹنے لگیں۔ میں نے کہا بھابھی اگر ڈانٹنا ہی ہے تو انگریزی میں ڈانٹیے۔ اس پر بھابھی نے نہایت زور سے کہا۔ یو، اے۔ بی۔ سی۔ ڈی۔ ای۔ ایف اور انگریزی کے تمام حروفِ تہجّی فراٹے کے ساتھ پڑھ گئیں۔ بھابھی کا تو یہ حال اور بیوی کا یہ احوال کہ گھڑی گھڑی باورچی خانے سے باہر آتیں اور طرح طرح کے لفظوں کی انگریزی پوچھتیں۔ کبھی کہتیں سل بٹے کو انگریزی میں کیا کہتے ہیں۔ کبھی دریافت کرتیں ہلدی کو انگریزی میں کیا کہتے ہیں۔ کبھی ارشاد فرماتیں، میں دال بگھار رہی ہوں۔ اس کی انگریزی بتاؤ۔ میں بے چارا ڈکشنری کے ورق الٹ پلٹ کر دیکھتا مگر وہاں یہ لفظ کہاں اور اگر ہینگ اور پھٹکری کے الفاظ کا ترجمہ ڈکشنری میں مل بھی جاتا تو چوکھا رنگ کہاں سے آتا۔ ہائے غالب: جتنی فرہنگیں اور جتنے فرہنگ طراز ہیں، یہ سب کتابیں اور یہ سب جامع، مانندِ پیاز ہیں، تو در تو اور لباس در لباس وہم در و ہم اور قیاس در قیاس۔ پیاز کے چھلکے جس قدر اتارتے جاؤ گے۔ چھلکوں کا ڈھیر لگ جائے گا۔ مغز نہ پاؤ گے۔”

خیر یہ معاملہ تو انگریزی زبان کا تھا۔ اب سوال انگریزی آداب کا درپیش ہوا۔ میں نے یہ فیصلہ کیا کہ سب سے پہلے میز کرسی کا بندو بست کرنا چاہئے تا کہ اس پر بیٹھ کر کھایا جائے۔ فرنیچر والوں کی دوکان پر گیا اور میز کرسی کے دام پوچھے تو آہ بھر کر رہ گیا۔ آخر کباڑیوں کے وہاں پہنچا۔ اس زمانے کے انگریز کی کیا بات تھی۔ بات بات پر گھر کا سامان بیچ ڈالتا تھا۔ شیرو کباڑی بڑی بڑی کوٹھیوں کا کباڑی تھا۔ اس بیچارے نے دو چار ہی دن میں میرا گھر کرسیوں، تپائیوں اور صوفہ سیٹ سے بھر دیا۔ میں خود تو ہیٹ نہیں پہنتا تھا مگر آئے گئے کے لئے میں نے وہ چوکھٹا خریدا جس میں کھونٹیاں لگی ہوتی ہیں اور ہیٹ ٹانگنے کے کام آتا ہے۔ یہ مردود چوکھٹا باہر برآمدے میں چوبدار کی طرح کھڑا رہتا تھا اور منتظر رہتا تھا کہ کوئی اس کی کھونٹی پر اپنی ہیٹ ٹانگ دے۔

ہمارے یہاں شلغم کا موسم ہو تو شلغموں کے قتلے کاٹ کر ہار پرو لیتے ہیں اور دھوپ میں سکھانے ڈالتے ہیں۔ ان سوکھے ہوئے شلغموں کو پشاوری زبان میں کچری کہتے ہیں اور پنجابی میں ڈکرے۔ ایک دن بارش ہو رہی تھی، گھر آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میری اہلیہ محترمہ نے شلغموں کے ہار اس ہیٹ اسٹینڈ پر سوکھنے کو ڈال رکھے ہیں۔ مجھے ہیٹ اسٹینڈ کی توہین پر بہت غصہ آیا۔ میں کچھ کہنے ہی والا تھا کہ میری بھابھی اور میری بیوی دونوں کھلکھلا کر ہنس پڑیں اور مجھے بھی کھسیانی ہنسی ہنسنا پڑی۔

چھری کانٹا مہیا کرنے کے بعد میں نے واقف کار لوگوں سے آلات خورد و نوش کو استعمال کرنے کا ڈھنگ سیکھا۔ اس بارے میں جو کچھ میں باہر سیکھتا۔ گھر آکر بھابھی بیوی اور بھتیجوں کو سکھاتا۔ میں نے تو یہاں تک بندوبست کیا کہ ایک چھوٹا سا گھنٹہ بھی خرید لایا اور ملازم سے کہا کہ میز پر پلیٹیں لگا کر اس گھنٹے کو بجایا کر۔ ہم اس کی آواز سن کر کھانا کھائیں گے ورنہ تُو ہزار سر پٹختا رہ جائے کہ کھانا تیار ہے۔ ہم کمرے کے اندر قدم نہ رکھیں گے۔ میں نے ملازم کو یہ بھی سمجھا دیا کہ جب ہم سب لوگ میز کے گرد بیٹھ جائیں تو باورچی خانے سے کھانا لایا کر، ہر ایک کے کندھے کے اوپر سے سالن کے ڈونگے لڑھکایا کر۔

گھر کا ٹھاٹ اور اپنا باٹ درست کرنے کے بعد میں نے ہر لباس میں اور ہر زاویے سے اپنی تصویریں کھنچوانا شروع کر دیں۔ ڈنر جیکٹ میں تصویر، پلس فور میں تصویر، ٹینس کے لباس میں تصویر، منہ میں پائپ لگا کر تصویر، پتلون کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر تصویر، اوور کوٹ میں تصویر، برساتی میں تصویر، شکاری کوٹ میں تصویر، ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ کی ٹیک دے کر تصویر، سگریٹ کے اڑتے ہوئے دھوئیں میں تصویر۔

ہر تصویر کی ایک نقل بھائی کو کیمبرج بھیج دیتا تاکہ وہ میری ترقی سے باخبر رہیں۔ ان تصویروں کی رسید میں انھوں نے مجھے لکھا۔ ماشاء اللہ سبحان اللہ! اب اپنا نام بھی "ڈسوزا” رکھ لو۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں