The news is by your side.

ایشیا کپ ناخوشگوار واقعے میں ملک سے فرار ہونے والے شہری ملوث ہیں: ذبیح اللہ مجاہد

کابل: امارت اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایشیا کپ 2022 میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان میچ کے بعد پیش آنے والے ناخوش گوار واقعات پر کہا ہے کہ افغان عوام سنجیدہ قوم ہے جو ایسی حرکتوں پر یقین نہیں رکھتی۔

تفصیلات کے مطابق ایشیا کپ میں پاک افغان میچ کے بعد گراؤنڈ میں ہنگامہ آرائی اور سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مہم کے حوالے سے جب امارت اسلامیہ کا مؤقف پوچھا گیا تو ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ یہ ناخوش گوار واقعہ ایسے کچھ لوگوں کی جانب سے پیش آیا ہے جو امارت اسلامیہ کی آمد کے بعد ملک چھوڑ کر فرار ہو چکے ہیں۔

انھوں نے کہا افغان عوام سنجیدہ قوم ہے جو ایسی حرکتوں پر یقین نہیں رکھتی، سوشل میڈیا پر اس نفرت انگیز مہم کے پیچھے ہماری تحقیق کے مطابق کچھ فیک اکاؤنٹس کار فرما ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا امارت اسلامیہ نے سوشل میڈیا ایکٹیویسٹس اور افغان نوجوانوں کے نام کچھ دن قبل ایک ہدایت نامہ بھی جاری کیا تھا جس میں انھیں شائستگی اور اخلاقی رویہ اپنانے کی تلقین کی گئی تھی۔

پاکستان سے شکست کے بعد افغان ٹیم کی نیندیں‌ اڑ گئیں!

بدھ 7 ستمبر کو دبئی انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے پاک افغان میچ کے بعد ہنگامہ آرائی کے بعد امارت اسلامیہ کے ترجمان کی جانب سے جاری ہدایت نامے میں پاکستان کے عوام کے خلاف سوشل میڈیا مہم کو افغانی اور اسلامی کلچر کے خلاف قرار دیا گیا تھا۔

ہدایت نامے میں کہا گیا تھا کہ ’گزشتہ دو دن سے جب سے کرکٹ میچ ہارنے کا واقعہ ہوا ہے کچھ افغان بھائی غیر شعوری طور پر اپنے اصول، اخلاق اور قلمی عفت سب کچھ بھول چکے ہیں، پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کی غمی و خوشی میں شریک دو بھائی ہیں، ان کی ایک دوسرے سے بہت سی ضروریات وابستہ ہیں۔

ہدایت نامے میں کہا گیا کہ یہ سب کچھ نظر انداز کر کے توہین، تذلیل، تحقیر کا رویہ اختیار کرنا نہ امارت اسلامیہ کی پالیسی ہے نہ افغانی غیرت و حمیت کا تقاضا ہے، نہ ہی ہمارا دین اس کی اجازت دیتا ہے۔ ہر معاملے میں حد سے تجاوز اور عوام کو نفرت کی جانب بلانا اسلام دشمن قوتوں کا پروگرام ہے۔

ہدایت کی گئی کہ اگرچہ ممکن ہے اُس جانب سے بھی ایسا کچھ ہوتا ہو مگر ہماری آپ کی اپنی ذمہ داری ہے، نفرت اور بیزاری کی باتیں نہ کریں، کھیل کھیل ہے کوئی جنگ یا سنجیدہ معاملہ نہیں، نہ اپنے کھلاڑیوں کو پریشان کریں، نہ دیگر ممالک سے اپنے تعلقات خراب کریں۔ نہ دیگر اقوام کو یہ تاثر دیں کہ ہم میں برداشت کی صلاحیت بالکل نہیں۔

ترجمان کی جانب سے سوشل میڈیا پر نفرت پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی تنبیہہ بھی کی گئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں