The news is by your side.

Advertisement

اٹھارہ رمضان ۔ حضرت داؤد علیہ السلام پر زبور نازل ہونے کا دن

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے جو 4 آسمانی کتب نازل فرمائیں، وہ سب رمضان المبارک کے مہینے میں ہی نازل ہوئیں۔

ماہ رمضان کی 18 تاریخ کو حضرت داؤد علیہ السلام پر زبور نازل کی گئی۔

زبور کے لغوی معنیٰ ایک پارے اور ٹکڑے کے ہیں۔ اس کا ایک مطلب شیر بھی ہے۔

زبور تختی یا کتاب لکھنے کے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے۔ عربی شاعری میں زبور اور زبر کتابت، کتاب اور تختی کے معنوں میں کئی جگہ استعمال ہوا ہے۔

حضرت داؤد علیہ السلام

حضرت داؤد علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ نبی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کو یہ معجزہ عطا کیا تھا کہ آپ کی آواز نہایت شیریں اور پرسوز تھی۔

جب آپ تلاوت فرماتے تو اس لحن کے باعث پرندے و جانور تک وجد میں آ جاتے۔ آپ کی آواز میں وہ نغمگی، مٹھاس اور ایسا زیر و بم تھا کہ شجر و حجر سبھی کو متاثر کرتا تھا۔ ہوا میں اڑتے ہوئے پرندے رک جاتے۔

اللہ تعالیٰ کے حکم سے پہاڑ بھی صبح و شام ان کے ساتھ تسبیح کرنے پر معمور تھے۔

صحیح حدیث میں ہے کہ ایک رات صحابی رسول حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ تلاوت کلام پاک کر رہے تھے۔ رسول کریم ﷺ دیر تک سنتے رہے، پھر خوش ہو کر فرمایا کہ آج مجھے لحن داؤد علیہ السلام کا کچھ حصہ مل گیا ہے۔

حضرت داؤد علیہ السلام سے پہلے بنی اسرائیل میں یہ سلسلہ قائم تھا کہ حکومت ایک خاندان اور نبوت و رسالت کسی دوسرے خاندان سے وابستہ ہوتی تھی۔ حضرت داؤد علیہ السلام کے عہد میں یہودا کا گھرانا نبوت اور افراہم کا خاندان حکومت و سلطنت سے سرفراز تھا۔

اس خاندان سے حضرت شموئیل کے عہد میں لوٹ مار اور حملہ آوروں کا زور بڑھتا جا رہا تھا۔ بنی اسرائیل نے آپ علیہ السلام سے درخواست کی کہ آپ اپنے بیٹوں کے بجائے کسی اور کو بادشاہ مقرر کر دیں، جو ظالموں کا مقابلہ کرنے کی طاقت و قوت رکھتا ہو۔

بنی اسرائیل کے اصرار پر حضرت شموئیل نے طالوت نامی شخص کو بادشاہ مقرر کیا جو بہت بہادر و جری تھا۔

طالوت فلسطین کے حکمران جالوت سے برسر پیکار ہونے کے لیے آگے بڑھا، جو اپنی طاقت اور کثیر لشکر کے زعم میں بنی اسرائیل کو ہر صورت میں غلام بنانے پر تیار تھا۔ طالوت مقابلے کی سکت نہ رکھتا تھا اور پریشان تھا۔

مجلس مشاورت بلوائی گئی اور وہاں یہ تجویز منظور کی گئی کہ بنی اسرائیل کا جو جوان جالوت سے مقابلہ کر کے اسے ہلاک کرے گا، اسے نصف سلطنت کا مالک بنا دیا جائے گا۔

یہی زمانہ تھا کہ جب بنی شموئیل کو بشارت ہوئی تھی کہ یسیٰ (طبقات ناصری میں یہ نام انسا اور قصص الانبیا میں ایشا درج ہے) کا چھوٹا بیٹا، طالوت کی وفات کے بعد بنی اسرائیل کا حکمران ہو گا اور اس سے بڑھ کر ایک اور اعزاز اس کا منتظر ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ نے نبوت کے لیے بھی اسی کو منتخب فرمایا ہے۔

حضرت داؤد علیہ السلام مستقبل کے اس خوب صورت لیکن ذمہ دار دور سے بے خبر جنگلوں میں بھیڑ بکریاں چراتے رہے اور ساتھ ساتھ اپنے دل پسند مشغلے میں بھی محو رہے۔

ان کی بہادری کے قصے بھی مشہور تھے، یہ بات بھی عام تھی کہ وہ جنگل میں شیر پر سواری کیا کرتے تھے۔

بعد ازاں حضرت داؤد علیہ السلام نے ایک جنگ میں جالوت کو شکست دی جس کے بعد سلطنت آپ کے حوالے کردی گئی۔

حضرت داؤد علیہ السلام کا ذکر قرآن کریم کی 9 سورتوں میں 16 مرتبہ آیا ہے۔ سورہ البقرہ، النساء، المائدہ، الانعام، الاسراء، الانبیاء، النمل، السبا اور ص میں آپ کے حالات و واقعات اور رشد و ہدایت کا بیان ہے اور اللہ تعالیٰ کے انعامات کا ذکر ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں