The news is by your side.

Advertisement

زید حامد نے سعودی عرب میں گرفتاری کا محرک ’’را‘‘ کو قراردے دیا

کراچی: دفاعی تجزیہ نگار زید حامد نے سعودی عرب میں گرفتاری کے لئے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کو مورد الزام ٹہھرایا ہے۔

زید حامد نے اپنی فیس بک پوسٹ میں لکھا ہے کہ را کے ایجنٹوں نے سعودی حکام کو گمراہ کیا کہ میں ایرانی جاسوس ہوں، بھارتی ایجنٹوں نے دلیل کے طور پر ایران کے سابق صدر احمدی نژاد کے ساتھ تصویر اور ایران کے دوروں کو استعمال کیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یمن میں فوجیں بھیجنے کی مخالفت والے ٹی وی پروگرام کو بھی سعودی حکام کے سامنے توڑ مروڑ کر پیش کیا۔

زید حامد نے یہ بھی کہا کہ جب میں سعودی عرب پہنچا تورا کے جاسوس اپنا جال بچھا چکے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی حکام نے ہفتوں تفتیش کی اور بالاخر اس نتیجے پر پہنچے کہ مجھ پرعائد کئے گئے تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ’’بھارتی حکومت نے ان کی بھارت منتقلی کا بھی مطالبہ کیا جس پرسعودی حکام کے چوکنا ہوئے کہ کچھ گڑبڑ ہے‘‘۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’یمن فوجیں بھجوانے کی مخالفت انہوں پاکستان اور امت کی محبت میں کی تھی نہ کہ ایران کے مفادات کے تحفظ کے لئے‘‘۔

زید نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی وزراء نے ان کی رہائی کے لئے کسی قسم کا کوئی کردارادا نہیں کیا بلکہ ان کی اہلیہ نے تن تنہا تمام ثبوت سعودی حکام تک پہنچائے کہ وہ ایرانی جاسوس نہیں ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’اگر میں جاسوس ہوتا تو سعودی عرب مجھے باعزت طریقے سے رہا کرکے وطن واپس نہیں بھجواتا بلکہ یا تو مجھے سزائے موت ہوتی یا پھرملک بدر کیا جاتا کیونکہ سعودیہ میں جاسوسوں کے لئے معافی نہیں ہے‘‘۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں