The news is by your side.

Advertisement

زین آفندی کے ملازم نے قاتلوں کو شناخت کر لیا

کراچی: 6 جنوری کو شہر قائد میں قتل ہونے والے زین آفندی کے قاتلوں کو ان کے ملازم نے شناخت کر لیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق پولیس ذرائع نے کہا ہے کہ سندھ مدرسۃ الاسلام کے بانی حسن علی آفندی کے پوتے زین آفندی کے ملازم نے قاتلوں کو شناخت کر لیا ہے، ملزمان کاگروہ افغان باشندوں پر مشتمل ہے۔

پولیس کے مطابق افغان باشندوں کا ڈکیت گروہ کچرا چننے کی آڑ میں ہدف ڈھونڈتا تھا، ملزمان میں فیضان قیصر، محمد آغا، گل محمد، عمران اور رحمت اللہ شامل ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کچرا چننے کی آڑ میں ریکی کرتے تھے، ملزمان کو اسلحہ فراہم کرنے والے ملزم کی تلاش کے لیے چھاپے جاری ہیں۔ ملزمان کو مزید تحقیقات کے لیے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے حوالے کر دیاگیا ہے۔

واضح رہے کہ حسن علی آفندی کے پوتے کو چھ جنوری کو صبح 3 بج کر 25 منٹ پر 5 ملزمان نے مزار قائد کے سامنے واقع گھر میں گھس کر گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا، قاتلوں نے ان کے چہرے پر 3 گولیاں ماری تھیں، اور وہ 55 منٹ تک گھر میں موجود رہے، پولیس حکام نے بتایا تھا ملزمان سفید رنگ کی کرولا گاڑی میں آئے تھے اور انھوں نے ملازم کو رسیوں سے باندھ دیا تھا۔قتل کا مقدمہ زین آفندی کی اہلیہ انیقہ زین کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

9 جنوری کو فارنزک رپورٹ آنے کے بعد پولیس نے بتایا کہ زین آفندی کے قتل میں ملزمان نے نیا اسلحہ استعمال کیا، گولیوں کے خول کسی اور واردات میں استعمال اسلحے سے میچ نہیں ہوئے۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن کا کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی مدد سے ملزمان تک رسائی پر کام ہو رہا ہے۔

14 جنوری کو اس کیس میں پولیس نے مرکزی ملزم سمیت 5 ملزمان کو گرفتار کیا، جن کی گرفتاری کے لیے چنیسرگوٹھ، محمود آباد، ناظم آباد، منگھوپیر اور اورنگی میں چھاپے مارے گئے تھے، یہ تمام افراد افغان شہری تھے۔

خیال رہے سندھ مدرسۃ الاسلام یکم ستمبر 1885 کو قائم ہوا تھا، اس کے بانی ترک نژاد حسن علی آفندی تھے جو کراچی میں آباد تھے۔ اس ادارے کا شمار جنوبی ایشیا کے قدیم ترین جدید مسلم تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے، اس کا مقصد سندھ کے لوگوں کو جدید تعلیم سے بہرہ ور کرنا تھا۔ بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی سندھ مدرسۃ الاسلام میں ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں