site
stats
پاکستان

سپریم کورٹ نے زین قتل کیس کا ریکارڈ فوری طلب کرلیا

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے زین قتل کیس میں پنجاب حکومت کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی جانیوالی اپیل کاریکارڈ فوری طورپرطلب کرلیا۔

اپیل کامتن بذریعہ فیکس کورٹ کوبھجوانے کی ہدایت جاری کردی گئی۔ ریکارڈ کاجائزہ لینے کے بعد عدالت آج کی کارروائی کے حوالے سے کوئی موزوں حکم جاری کرے گی۔

زین قتل کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت کے موقع پر زین کی والدہ اور گواہان عدالت مِیں پیس ہپوئے زین کی والدہ نے عدالت کو بتایا کہ یس نے ملزمان کو اپنے بیٹے زین کا قتل معاف نہیں کیا ۔

اس کا کہنا تھا کہ ملزمان بہت طاقت ور ہیں وہ ان سے نہیں لڑ سکتی جس پر عدالت نے کہا کہ اسے ملزمان سے لڑنے کی ضرورت نہیں ہے یہ کام سرکار کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقتول کے ماموں کوانہوں نے مدعی نہیں بنایا تھا بلکہ وہ ازخوداس کیس کے بیچ میں آگئے۔ خاتون کا خوف اور گھبراہٹ دیکھتے ہوئے عدالت نے خاتون کا بیان اپنے چیمبر میں تنہائی میں ریکارڈ کیا۔

جس کے بعد پراسیکیوٹر نے عدالت کو بیان دیتے ہوئے بتایا کہ تفتیش کے دوران گواہان نے بتایا تھا کہ وہ موقع پر موجود تھے اور انہوں نے خود وقوعہ دیکھا لیکن عدالت میں گواہان اپنے بیان سے منحرف ہو گئے اورموقف تبدیل کرلیا۔

گواہوں نے عدالت میں گواہی دی کہ انھوں نے وقوعہ اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا صرف سنا۔ جس کے بعدگواہان نے عدالت کے احاطے میں ہی ملزم کوبتایا کہ انہوں نے بیان بدل دیا ہے اس لئے وہ اب انہیں بقایا رقم یہیں ادا کردے جس کے بعد گواہوں نے ملزم کے بھائی سے رقم کالفافہ لے کر جیب میں ڈالا،۔

جسٹس امیرہانی مسلم نے سوال کیا کہ جو آپ بیان کررہے ہیں کیا آپ نے خوددیکھا۔ پراسیکیوٹرجنرل نے بتایا کہ اے ایس آئی محبوب عالم موقع پرموجودتھا جس نے یہ تمام واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا عدالت نےسوال کیا کہ گواہوں کوموقع پرگرفتارکیوں نہیں کیاگیا۔

پراسیکیوٹرکاکہناتھا کہ گرفتاری کیلئے ایف آئی آر کااندراج ضروری ہے لیکن عدالت نے پراسیکیوٹر کاموقف مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کوئی عدالت میں فائرنگ شروع کردے توکیا آپ اسے گرفتارکریں گے یا ایف آئی آر درج ہونے کاانتظارکریں گے؟

پرایسکیوٹر نے بتایا کہ گواہوں کے خلاف ایف آئی آر درج ہوچکی ہے اورمزید کارروائی جاری ہے اورپنجاب حکومت نے انسداد دہشت گردی کے فیصلے کیخلاف اپیل بھی دائر کردی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top