The news is by your side.

Advertisement

زینب الرٹ بل سینیٹ سے منظور، جماعت اسلامی اور مسلم لیگ ن کی مخالفت

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ میں زینب الرٹ بل پیش کیا گیا جسے ایوان میں منظور کرلیا تاہم جماعت اسلامی اور مسلم لیگ ن نے بل کی مخالفت کی۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق قائمہ کمیٹی سے منظور ہونے والا زینب الرٹ بل آج سینیٹ کے ہونے والے اجلاس میں منظوری کے لئے پیش کیا گیا جس کی اپوزیشن جماعتوں نے مخالف کی۔

مسلم لیگ ن اور جماعت اسلامی کی مخالفت کے باوجود بل کو منظور کرلیا گیا۔ سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر جاوید عباسی کا کہنا تھا کہ بل کے حوالے سے ہمیں کچھ تحفظات ہیں کیونکہ اجلاس میں وزیر برائے انسانی حقوق موجود نہیں ہیں اور  ہم چاہتے ہیں بل میں کوئی سقم نہ رہے۔

سینیٹر مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ دباؤ کے ذریعے قصاص ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، بل میں‌ موجود اس شرط کو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائے گا، زینب الرٹ بل میں کمزوریاں ہیں اسی وجہ سے مخالفت کررہے ہیں۔

مزید پڑھیں: زینب الرٹ بل کا دائرہ کار ملک بھر میں بڑھانے کی تجویز

سینیٹر اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ مذکورہ بل قومی اسمبلی سے منظور ہوچکا، جس کے بعد یہ قائمہ کمیٹی کو بھیجا گیا، کمیٹی میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی تھی۔

سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے ایوان کو بتایا کہ زینب بل پر8 اجلاس طلب کیے گئے، شبلی فراز کمیٹی کے ہر اجلاس میں شریک ہوئے، ہم نے بل میں کئی تبدیلیاں بھی کیں، رائج قانون کے مطابق بچہ گم ہو تو پولیس مقدمہ درج نہیں کرتی اور اگر ایف آئی آر کا اندراج ہو بھی جائے تو قانون حرکت میں نہیں آتا اور پولیس کو ایسے مقدمات میں التوا کا موقع مل جاتا ہے۔

مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ فرشتہ کیس ہمارے لئے مثال ہے، مقدمے درج کرنے کے باوجود بچی کے والد سے تھانے کی صفائیاں کرائی گئیں، ہم نے بل میں 2 گھنٹے کے اندر لاپتہ / گمشدہ بچے کی ایف آئی آر درج کرنے کی تجویز دی اور اگر کوئی پولیس والا مقدمہ درج نہ کرےتو اُسے 2سال کی سزا ، ایک لاکھ روپے جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

سینیٹر فیصل جاوید خان نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے زینب الرٹ بل کی منظوری پر قوم کو مبارک باد پیش کی اور کہا کہ  بچوں کی سلامتی اورتحفظ کامعاملہ اہم ترین نوعیت کاہے، بچوں کی زندگیوں سےکھیلنے والے درندے سخت سزاؤں کےحق دارہیں، سزاؤں کے حوالے سے جماعت اسلامی کے مؤقف سے بالکل متفق ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی نے زینب الرٹ بل متفقہ طور پر منظورکرلیا

اُن کا کہنا تھا کہ ’مذکورہ قانون سازی کو مزید تاخیرکا شکارکرناممکن نہیں تھا، پہلے ہی اہم قانون سازی پر غیر معمولی تاخیر برتی گئی، قانون میں بہتری اور عملدرآمد کے لیے ترمیم پیش کرنے کی گنجائش ہے، قانون پورے ملک میں یکساں طور پر لاگو ہوگا، قانون کی منظوری سے بااختیار اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جائےگا، بچوں کی جان و حرمت سے کھیلنے والوں کو سختی سے کچلیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں