site
stats
پاکستان

میری بچی کی قاتل مقامی پولیس ہے، والد زینب

قصور کی بارہ بچیوں پر کیا قیامت ٹوٹی؟ دیکھیے دلخراش داستان

قصور : چار روز قبل قتل ہونے والی قصور کی زینب کے والد کا کہنا ہے کہ میری بچی کی قاتل مقامی پولیس ہے، اس کی نیت ٹھیک ہوتی تو زینب زندہ مل جاتی۔

یہ بات انہوں نے اے آر وائی نیوز کے زیر اہتمام قصور میں گزشتہ دنوں لاپتہ ہونے والی بچیوں کے والدین سے ملاقات اور پروگرام’’ سرعام‘‘ میں میزبان اقرار الحسن سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

اس موقع پر مقتولہ لائبہ کی والدہ، ایمان فاطمہ کی نانی، عائشہ کے والد ، نور فاطمہ کے والد تہمینہ کے والد اور چوہدری منظور، زینب کے اسکول کی پرنسپل اور علاقہ مکین بھی موجود تھے۔

اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے زینب کے والد نے کہا کہ پولیس کی مجرمانہ غفلت کےباعث میری بچی چلی گئی، علاقے کو سیل کرکے سادہ لباس اہلکار تعینات کیے جانے چاہیے تھے۔

میری بچی کی قاتل مقامی پولیس ہے، اس کےخلاف سخت اقدامات کیےجائیں، زینب کے والد نے بتایا کہ آج شام جے آئی ٹی کےارکان نے مجھ سےملاقات کی ہے، مجھے کہا گیا ہے کہ اطمینان رکھیں جلد معاملہ حل ہو جائے گا، میں نے اپنے تحفظات سے جےآئی ٹی کو آگاہ کردیا ہے۔

اس موقع پر گزشتہ سال قصورمیں قتل کی گئی بچی نور فاطمہ کے والد کا کہنا تھا کہ میری بیٹی دودھ لینے گئی تھی پھر واپس نہیں آئی، ڈھونڈنے پر حاجی پارک کے علاقے سے بچی کی لاش ملی۔

میں نے قاتل کی گرفتاری تک بچی کی تدفین سے انکارکیا تو پولیس نے48گھنٹے میں قاتل کو گرفتار کرنے کا یقین دلایا تھا،ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی یقین دہانی پر میں نے بچی کی تدفین کی، دفنانے کے بعد سے آج تک نہ تو قاتل گرفتار ہوا اورنہ ہی پولیس نے مجھ سے رابطہ کیا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر ضرور شیئر کریں۔ 

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top