The news is by your side.

Advertisement

زینب کے قاتل تاحال آزاد، ایک اور سی سی ٹی وی فوٹیج منظرعام پر

قصور: زینب کا قاتل تاحال آزاد ہے ، کیس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، متعدد سی سی ٹی وی فوٹیج اور شواہد ملنے کے باوجود پولیس اب تک قاتل کا سراغ لگانےمیں ناکام ہے۔ البتہ ایک اورسی سی ٹی وی فوٹیج پولیس کومل گئی۔

تفصیلات کے مطابق زینب قتل کیس میں‌ ایک اورسی سی ٹی وی فوٹیج منظرعام پرآگئی، فوٹیج میں مقتولہ زینب کو اسی شخص کی طرف جاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، شلوار قمیض اور کوٹ پہنا شخص زینب کو اپنی طرف آنے کا اشارہ کرتا ہے اور زینب اپنے قاتل کی جانب دورتی ہوئی چلی جاتی ہے۔

فوٹیج سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ زینب اس شخص کو جانتی تھی۔

اس سے قبل ایک شخص کی زینب کے گھر کے باہر گلی میں مشکوک انداز میں چکر لگاتے ہوئے فوٹیج سامنے آچکی ہے اور زینب اسی روز لاپتہ ہوئی تھی جبکہ فوٹیج میں نظر آنے والا مشکوک شخص مبینہ ملزم سے مشابہت رکھتاہے۔

یاد رہے کہ واقعے میں مبینہ ملزم کی ایک اور ملتی جلتی فوٹیج سامنے آئی تھی، جس میں ملزم زینب کا ہاتھ پکڑ کر اسے ساتھ لے جارہا تھا۔


مزید پڑھیں : زینب قتل کیس، مبینہ قاتل کی ایک اور اہم سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی


دوسری جانب پنجاب کی پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق تحقیقات میں ایک ہزارسےزائد افراد سے تفتیش کی گئی،ایک سو سے زائد افراد کےڈی این اے نمونےحاصل کرکے ٹیسٹ کے لئے بھجوائے جارہے ہیں۔

زینب قتل کیس کی تحقیقات  جاری ہے ، تفتیشی ٹیموں نے ڈیٹاجمع کرناشروع کردیا، زیادتی کے6واقعات 3کلومیٹرکی حدودمیں پیش آئے، تفتیشی ٹیموں نے3کلومیٹرکی حدودمیں تمام گھروں کا ڈیٹاجمع کرلیا۔

زرائع کا کہنا ہے کہ کسی فیملی پرشک ہوا توان کا ڈی این اے بھی کرایا جائے گا جبکہ مکینوں کو فوٹیج اور ملزم کا خاکہ دکھا کرمعلومات لی جارہی ہیں۔

خیال رہے کہ قصور میں 6 میں سے5 بچیاں زیادتی کے بعد قتل کی جاچکی ہیں، جن میں عائشہ آصف، ایمان فاطمہ، نور فاطمہ، لائبہ، کائنات ، زینب فاطمہ نشانہ بنیں ، 5بچیوں کی لاشیں 200میٹرکی حدود سے ملیں۔

واضح  رہے کہ قصور میں 7 سالہ زینب 5 جنوری کی شام ٹیوشن پڑھنے کے لیے گھر سے نکلی تھی اور پانچ دن بعد اس کی لاش کچرا کنڈی سے ملی تھی، بچی کی لاش ملنے پر قصور میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔

سات سالہ زینب کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں زیادتی کی تصدیق ہوئی تھی اور بتایا گیا تھا زینب کو زیادتی کے بعد گلا گھونٹ کر ہلاک کیا گیا جب کہ زینب کی نازک کلائیوں کو بھی تیز دھار آلے سے کاٹنے کی کوشش کی گئی اور بچی کے جسم پر تشدد کے نشانات بھی نمایاں تھے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں