The news is by your side.

Advertisement

زینب قتل کیس، ملزم کا اعتراف جرم، وکیل مقدمے سے دستبردار

لاہور: زینب قتل کیس میں گرفتار ہونے والے مرکزی ملزم عمران کے وکیل نے اعتراف کے بعد سفاک قاتل کا کیس لڑنے سے معذرت کرلی اور کہاکہ میرا ضمیر اب مجھے یہ مقدمہ لڑنے کی اجازت نہیں دیتا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور کے کوٹ لکھپت جیل میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے زینب قتل کیس کی 9 گھنٹوں تک طویل سماعت کی، ملزم عمران کے وکیل مہر شکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وہ اس مقدمے سے دستبردار ہورہا ہے کیونکہ اعتراف جرم کے بعد اُس کا ضمیر سفاک قاتل کا کیس لڑنے کی اجازت نہیں دے رہا۔

عمران کے وکیل کا کیس سے لاتعلقی کے بعد استغاثہ نے ملزم کو سرکاری وکیل مہیا کرتے ہوئے محمد سلطان کو زینب قتل کیس میں گرفتار ملزم کا وکیل مقرر کردیا۔

عدالت نے 32 گواہان کے قلم بند ہونے والے بیانات پر جرح مکمل کی جبکہ ملزم عمران نے بھی مجسٹریٹ کو اپنا اعترافی بیان ریکارڈ کروایا جس میں اُس نے کہا کہ میں نے 8 سالہ ننھی زینب کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر اُسے قتل کیا۔

مزید پڑھیں: زینب قتل کیں: آج مزید گواہان کےبیانات قلمبند کیےجائیں گے

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے فریقین کے وکلا کو حتمی دلائل کے لیے طلب کرلیا، جج کی جانب سے زینب قتل کیس کا فیصلہ آئندہ 24 گھنٹے کے دوران سنائے جانے کا قوی امکان ہے۔

لاہور ہائی کورٹ  کے چیف جسٹس نے انتظامی نوٹس لیتے ہوئے کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنے اور سات دن میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم جاری  کیا تھا۔

خیال رہے کہ پنجاب کے شہر قصور میں 10 جنوری کو زیادتی کے بعد قتل ہونے والی سات سالہ کم سن بچی زینب کو آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپرد خاک کردیا گیا تھا۔ بعدازاں چیف جسٹس آف پاکستان نے معصوم زینب کے بہیمانہ قتل کا از خود نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے 24 گھنٹے میں رپورٹ طلب کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: زینب قتل کیس: ملزم عمران پر فرد جرم پیر کو عائد کی جائے گی

یاد رہے کہ 25 جنوری کو چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے زینب قتل کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنے اور چالان پیش ہونے کے بعد سات روز میں مقدمہ کا فیصلہ سنانے کا حکم دیا تھا۔

واضح رہے انسدادِ دہشت گردی عدالت نے زینب سمیت آٹھ کمسن بچیوں سے زیادتی اور قتل کے ملزم عمران علی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا تھا‘ عدالت نے سرکاری وکیل کی استدعا پر مقدمہ جیل میں چلانے کا حکم دیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں