زینب قتل کیس: ملزم کی ڈی این اے رپورٹ سامنے آگئی zainab murder
The news is by your side.

Advertisement

زینب قتل کیس: ملزم کی ڈی این اے رپورٹ سامنے آگئی

لاہور: قصور کی ننھی زینب سمیت دیگر کمسن بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے ملزم کی ڈی این اے رپورٹ منظر عام پر آگئی جس کے مطابق  عمران سیریل کلر ہے۔

تفصیلات کے مطابق قصور کی ننھی زینب سمیت 8 کمسن بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے ملزم عمران کی ڈی این اے رپورٹ اے آر وائی  نیوز نے حاصل کر لی،  رپورٹ کےمطابق  آٹھوں وارداتوں میں عمران ملوث ہے اور ڈی این اے سے بھی ثابت ہو گیا کہ ملزم سیریل کلر ہے۔

زینب قتل کیس میں ملوث ملزم کو سخت سیکیورٹی میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں تفتیشی افسر نے ڈی این اے رپورٹ جج کے سامنے پیش کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملزم عمران نے 23 جون 2015 کو عاصمہ نامی بچی کو قصور کے علاقے صدر میں جنسی درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کی جبکہ تہمینہ نامی بچی کو 4 مئی 2016 اور عائشہ آصف کو 8 جون 2017 کو قتل کیا۔

مزید پڑھیں: زینب قتل کیس کا مرکزی ملزم عمران گرفتار

ڈی این اے رپورٹ کے مطابق عمران نے 24 فروری 2017 کو ایمان فاطمہ نامی بچی جبکہ 11 اپریل 2017 کو معصوم نور فاطمہ، 8 جولائی 2017 کو لائبہ اور 12 نومبر 2017 کو معصوم کائنات بتول کو زیادتی کا نشانہ بنایا، کائناب بتول تاحال کومہ کی حالت میں ہے۔

درندہ صفت شخص 4 جنوری 2018 کو قصور کی ننھی کلی زینب کو عمرے پر گئے والدین کی واپسی کا بول کر ملوانے کا جھوٹ بول کر لے گیا اور پھر اُسے ہوس کا نشانہ بنا کر قتل کیا۔

یہ بھی پڑھیں: زینب کیس : ڈی این اے سو فیصد میچ ہوا، قاتل سیریل کلر ہے، شہبازشریف

واضح رہے کہ زینب کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم عمران کی گرفتاری گزشتہ روز ظاہر کی گئی تھی جس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مذکورہ شخص کا ڈی این اے میچ کرگیا اور اس نے اپنے گھناؤنے جرائم کا اعتراف بھی کرلیا۔

واضح  رہے کہ قصور میں 7 سالہ زینب 5 جنوری کی شام ٹیوشن پڑھنے کے لیے گھر سے نکلی تھی اور پانچ دن بعد اس کی لاش کچرا کنڈی سے ملی تھی، بچی کی لاش ملنے پر قصور میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔

سات سالہ زینب کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں زیادتی کی تصدیق ہوئی تھی اور بتایا گیا تھا زینب کو زیادتی کے بعد گلا گھونٹ کر ہلاک کیا گیا جب کہ زینب کی نازک کلائیوں کو بھی تیز دھار آلے سے کاٹنے کی کوشش کی گئی اور بچی کے جسم پر تشدد کے نشانات بھی نمایاں تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں