site
stats
اہم ترین

زینب کے والدین کا ملزم کو سرعام سزائے موت اور سنگ سار کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد: قصور میں قتل ہونے والی ننھی زینب کے والدین نے ملزم کو سرعام سزائے موت اور سنگ سار کرنے اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو اس کیس کو اسپیشل کیس کی طرح لینے کا مطالبہ کیا۔

تفصیلات کے مطابق ننھی پری زینب کی موت والدین پر قہر بن کر ٹوٹی، زینب کے والدین نے ملزم کو سرعام سزائے موت دینےکا مطالبہ کیا اور کہا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی بل منظور کرائے تاکہ ملزم کو سخت سے سخت سزا ہوسکے۔

محمد امین نے کہا گرفتار عمران زینب کے قتل میں اکیلا ملوث نہیں، اس کے گھر والے بھی جرم میں برابر کے شریک ہیں، ان کو بھی تفتیش میں شامل کیا جائے، جن لوگوں نے بچی کو گھر میں چھپانے میں مدد کی وہ بھی ملزم ہیں۔

اس سے قبل بھی قاتل کی گرفتاری کے بعد زینب کے والد نے مطالبہ کیا تھا کہ شریعت کے مطابق ملزم کو سرعام سزادی جائے، پوری دنیا ملزم کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کررہی ہے۔

یاد رہے زینب کے قاتل کو واقعہ کے تیرہ دن بعد گرفتار کیا گیا، ملزم عمران زینب کے محلہ دار تھا، پولیس نے مرکزی ملزم کو پہلے شبہ میں حراست میں لیا تھا، لیکن زینب کے رشتے داروں نے اسے چھڑوا لیا تھا۔


مزید پڑھیں : زینب کو والدین سے ملوانے کے بہانے ساتھ لے گیا تھا: سفاک ملزم کا لرزہ خیزاعترافی بیان


تفتیس کے دوران ملزم عمران نے تہلکہ خیز انکشافات کئے، اپنے اعترافی بیان میں‌ کہا تھا کہ زینب کو اس کے والدین سے ملوانے کا کہہ کرساتھ لے گیا تھا، وہ باربار پوچھتی رہی ہم کہاں جا رہے ہیں، راستےمیں دکان پر کچھ لوگ نظرآئے، تو واپس آگیا، زینب کو کہا کہ اندھیرا ہے، دوسرے راستے سے چلتے ہیں، پھر زینب کودوسرے راستےسے لے کر گیا۔

واضح رہے کہ 9 جنوری کو سات سالہ معصوم زینب کی لاش قصور کے کچرے کنڈی سے ملی تھی, جسے پانچ روز قبل خالہ کے گھر کے قریب سے اغواء کیا گیا تھا، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں معصوم بچی سے زیادتی اور تشدد کی تصدیق ہوئی تھی، عوام کے احتجاج اور دباؤ کے باعث حکومت کی جانب سے جے آئی ٹی تشکیل دی گئی تھی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

loading...

Most Popular

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top