The news is by your side.

Advertisement

زینب قتل کیس: گیارہ روز گزرنے کے باوجود سفاک قاتل آزاد

قصور: پورے ملک کو جھنجھوڑ دینے والا زینب قتل کیس گیارہ روز گزرنے کے باوجود اب تک حل نہیں‌ ہوسکا، سفاک قتل آج بھی آزاد گھوم رہا ہے.

تفصیلات کے مطابق 615 افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ لینے اور سیکڑوں‌ افراد کو گرفتار کرنے کے باوجود ننھی زینب کو اب تک انصاف نہیں‌ مل سکا.

یاد رہے کہ 615 افراد میں‌ سے 450 نمونے ملزم کے ڈی این اے سے میچ نہیں‌ ہوئے ہیں. البتہ ڈیڑھ سو کی رپورٹ آنا ابھی باقی ہے۔ پولیس نے مزید دو افراد کو حراست میں‌ لے لیا ہے.

زینب کو قریبی گھر میں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، مالک مکان گرفتار

اس ضمن میں‌ وزیر اعلیٰ پنجاب نے تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ آر پی او ملتان سے بریفنگ لی اور تفتیش میں تیزی لانے کی ہدایت کی ہے۔

خیال رہے کہ دس جنوری کو سات سالہ معصوم زینب کی لاش قصور کی کچرا کنڈی سے ملی تھی، جسے پانچ روز قبل خالہ کے گھر کے قریب سے اغوا کیا گیا تھا، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں معصوم بچی سے زیادتی اور تشدد کی تصدیق ہوئی تھی. اس واقعے پر شدید ردعمل سامنے آیا اور عوامی دباؤ کے باعث حکومت کی جانب سے جے آئی ٹی تشکیل دی گئی. چیف جسٹس نے بھی واقعے کا نوٹس لیا۔

افسوس کی بات ہے زینب کا قاتل اب تک نہیں پکڑا گیا، زینب کے والد

اٹھارہ جنوری کو پولیس نے زینب  کیس میں دو اہم ملزمان کی گرفتاری کا دعوی کیا تھا، جن میں سے ایک ملزم پر سہولت کاری کا الزام تھا. پولیس کا دعویٰ تھا کہ لاش جس جگہ سے ملی تھی، اُس سے تھوڑے فاصلے پر موجود ایک مکان سے زیادتی و قتل کے شواہد کے ملے ہیں، مالک مکان کو گرفتار کرلیا گیا۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں