The news is by your side.

Advertisement

زینب کے والدکا آئی جی پنجاب سے ملنے سے انکار

قصور : قصور میں زینب قتل کیس کی تفتیش کا دائرہ وسیع کردیاگیا، زینب سمیت زیادتی کا نشانہ بننے والی دیگربارہ بچیوں کے خاندانوں کو آئی جی پنجاب نے بلوا لیا لیکن زینب کے والد نے جانے سے انکارکردیا۔

تفصیلات کے مطابق زینب قتل کیس کی تفتیش کیلئے پنجاب پولیس کا شاہانہ مزاج تبدیل نہ ہوا، آئی جی پنجاب نے قصور کے ڈی پی او آفس میں زینب کے والد سمیت ان متاثرہ والدین کو بھی بلوالیا جن کی بچیوں کے ساتھ گزشتہ دنوں اسی طرح کے واقعات پیش آئے تھے۔

آئی جی پنجاب نے متاثرہ خاندانوں کے گھر جاکر ملنے کے بجائے انہیں ڈی پی او آفس قصور بلایا تاہم زینب کے والدامین انصاری نے جانے سے انکارکردیا۔

امین انصاری کا کہنا ہے کہ پولیس کی تفتیش زبانی جمع خرچ سے زیادہ کچھ نہیں، اصل قاتل گرفتار نہیں ہوا بے گناہوں کی پکڑ دھکڑ جاری ہے، انصاف کی دہائی دینے والے مظاہرین کو رہا کیا جائے۔

زینب کےوالد نے مزید کہا کہ صبر کا پیمانہ لبریز ہورہا ہے، انصاف کیلئے کوششیں تیزہونی چاہئیں۔

ڈی پی او آفس قصور میں متاثرہ خاندانوں سے آئی جی پنجاب کی ملاقات کا مقصد تفتیش کے دائرہ کارکو مزید آگے بڑھانا بتایا گیا ہے۔

دوسری جانب زینب کے گھر کے اطراف رہائشی افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے دس فرانزک ٹیمیں قصور پہنچی، ٹیموں کومشکوک افراد کی فہرستیں دی گئیں تھیں، جنہوں نے ان افراد کے نمونے حاصل کئے۔


مزید پڑھیں : زینب کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے سفاک ملزم کا خاکہ جاری


یاد رہے کہ سالہ زینب قتل کیس میں ایک اور خاکہ جاری کیا گیا ، یہ خاکہ کیس کی تفتیش کرنے والی جے آئی ٹی کی جانب سے جاری ہوا جبکہ  زیادتی اور قتل کیس میں مشکوک شخص کی نئی تصویریں بھی سامنے آئیں ہیں، جس میں وہ عینک لگائے، گھنی داڑھی کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔

مشکوک شخص کو چار جنوری کی شام سات بجے واردات کے وقت اسی علاقے میں دیکھا گیا تھا

واضح  رہے کہ قصور میں 7 سالہ زینب 5 جنوری کی شام ٹیوشن پڑھنے کے لیے گھر سے نکلی تھی اور پانچ دن بعد اس کی لاش کچرا کنڈی سے ملی تھی، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں معصوم بچی سے زیادتی اور تشدد کی تصدیق ہوئی تھی، عوام کے احتجاج اور دباؤ کے باعث حکومت کی جانب سے جے آئی ٹی تشکیل دی گئی تھی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں