The news is by your side.

Advertisement

صدرمملکت سے قاتل کی رحم کی اپیل مسترد کرنے کی درخواست کریں، ننھی زینب کے والد کا سیاسی قائدین کو خط

مجرم کوعبرتناک سزادی جائے تاکہ ایسے جرائم کو روکا جاسکے

لاہور: قصور کی ننھی زینب کے والد امین انصاری نے قاتل کی رحم کی اپیل مسترد کرانے کیلئے سیاسی جماعتوں کے قائدین کو خط بھجوا دیا اور کہا مجرم کوعبرتناک سزادی جائے تاکہ ایسے جرائم کو روکا جاسکے۔

تفصیلات کے مطابق قصور کی ننھی زینب کے والد امین انصاری قاتل کی رحم کی اپیل مسترد کرانے کیلئے سیاسی جماعتوں کے قائدین کو خط لکھا، یہ خط اشتیاق چوہدری ایڈووکیٹ نے سیاسی جماعتوں کے قائدین کو بھجوایا ہے۔

یہ خط شہباز شریف، عمران خان، بلاول بھٹو، سراج الحق اور ڈاکٹر طاہر القادری سمیت تمام قومی سیاسی قائدین کو بھجوایا گیا ہے۔

ننھی زینب کے والد کی جانب سے خط میں کہا گیا کہ ننھی زینب کے قاتل کی رحم کی اپیل صدر مملکت کے پاس زیر التوا ہے۔ صدر مملکت کو اپیل مسترد کرنے کے لیے خط لکھا مگر ابھی تک اپیل مسترد نہیں کی گئی۔

امین انصاری نے کہا کہ مجرم عمران کا جرم ناقابل معافی ہے، اسے عبرتناک سزا دی جائے تاکہ ایسے جرائم کو روکا جا سکے۔

خط میں سیاسی قائدین سے کہا گیا کہ وہ صدر مملکت سے مجرم کی رحم کی اپیل مسترد کرنے کی درخواست کریں۔


مزید پڑھیں :  قاتل کی رحم کی اپیل مسترد کردیں: زینب کے والد کا صدر مملکت کو خط


یاد رہے کہ  ننھی زینب کے والد امین انصاری نے صدر مملکت ممنون حسین کو خط لکھ کر درخواست کی تھی کہ زینب کے قاتل عمران کی رحم کی اپیل مسترد کی جائے۔

زینب کے والد کا کہنا تھا کہ مجرم کسی رعایت یا معافی کا مستحق نہیں۔ مجرم عمران کو نشان عبرت بنایا جائے تاکہ پھر کوئی ایسی حرکت نہ کر سکے۔

اس سے قبل  زینب کے والد نے گزشتہ ماہ قاتل عمران کو سرعام پھانسی دینے کے لیے بھی درخواست لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی تھی۔

واضح رہے کہ رواں برس جنوری میں ننھی زینب کے بہیمانہ قتل  نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ننھی زینب کو ٹیوشن پڑھنے کے لیے جاتے ہوئے راستے میں اغوا کیا گیا تھا، جس کے دو روز بعد اس کی لاش ایک کچرا کنڈی سے برآمد ہوئی۔

زینب کو اجتماعی زیادتی، درندگی اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ دم توڑ گئی تھی۔

خیال رہے زینب قتل کیس پاکستان کی تاریخ کا سب سے مختصرٹرائل تھا، مجرم کی گرفتاری کے بعد چالان جمع ہونے کے 7 روز میں ٹرائل مکمل کیا گیا۔


مزید پڑھیں :  زینب کےدرندہ صفت قاتل عمران کو 4 بارسزائےموت کا حکم


انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زینب قتل کیس کے ملزم عمران کے خلاف جیل میں روزانہ تقریباً 10 گھنٹے سماعت ہوئی اور اس دوران 25 گواہوں نے شہادتیں ریکارڈ کروائیں۔

اس دوران مجرم کے وکیل نے بھی اس کا دفاع کرنے سے انکار کردیا جس کے بعد اسے سرکاری وکیل مہیا کیا گیا۔

رواں سال 17 فروری کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ملزم عمران کو 4 بار سزائے موت اور 32 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں