The news is by your side.

Advertisement

زینب قتل کیس: مجرم کو سرعام پھانسی دینے کی درخواست، حکومت سے جواب طلب

لاہور: ہائی کورٹ نے قصور کی ننھی زینب کے قاتل عمران کو سر عام پھانسی کی سزا دینے کے لئے دائر درخواست پرحکومت پنجاب سے جواب طلب کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق ننھی زینب کے والد کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انوار الحق کاکڑ نے کی، کارروائی کے دوران زینب کے والد حاجی امین انصاری کے وکیل نے مؤقف پیش کیا۔

انہوں نے عدالت کو پیش کیے جانے والے دلائل میں کہا کہ قصور میں زینب سمیت ننھی بچیوں سے زیادتی کے مجرم عمران کا گھناؤنا عمل اسلامی شریعت کی روح سے فتنہ و فساد پھیلانے کے زمرے میں آتا ہے۔

مزید پڑھیں: زینب کے والد کی مجرم عمران کو سرعام پھانسی دینے کی درخواست

درخواست گزار حاجی امین انصاری کے وکیل نے کہا کہ اسلامی شریعت میں ایسے درندوں کی سزا سرعام قتل کرنا ہے، انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مجرم عمران کو سزا سنائی جس پر عدالت سر عام عمل درآمد کا حکم دے تاکہ دوسرے لوگ بھی اس سے عبرت حاصل کریں اور  معاشرے سے سنگین جرائم کا حاتمہ ہوسکے۔

عدالت نے سماعت کے بعد  حکومت پنجاب اور دیگر فریقین سے جواب طلب کر لیا۔

خیال رہے کہ رواں برس جنوری میں ننھی زینب کے بہیمانہ قتل نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ننھی زینب کو ٹیوشن پڑھنے کے لیے جاتے ہوئے راستے میں اغوا کیا گیا تھا جس کے دو روز بعد اس کی لاش ایک کچرا کنڈی سے برآمد ہوئی۔

زینب کو اجتماعی زیادتی، درندگی اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ دم توڑ گئی تھی۔ زینب قتل کیس پاکستان کی تاریخ کا سب سے مختصرٹرائل تھا، مجرم کی گرفتاری کے بعد چالان جمع ہونے کے 7 روز میں ٹرائل مکمل کیا گیا۔

اسے بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ نے ننھی زینب کے قاتل کی رحم کی اپیل مسترد کردی

انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زینب قتل کیس کے ملزم عمران کے خلاف جیل میں روزانہ تقریباً 10 گھنٹے سماعت ہوئی اور اس دوران 25 گواہوں نے شہادتیں ریکارڈ کروائیں۔

اس دوران مجرم کے وکیل نے بھی اس کا دفاع کرنے سے انکار کردیا جس کے بعد اسے سرکاری وکیل مہیا کیا گیا۔

17 فروری کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ملزم عمران کو 4 بار سزائے موت اور 32 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں