The news is by your side.

Advertisement

مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک نوجوان کا کردار معمہ بن گیا

کراچی : گذری میں مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک نوجوان ذکریا بے گناہ تھا یا گناہ گار، ہلاکت کے بعدمبینہ ملزم کا کردارمعمہ بن گیا۔

پولیس حکام کا کہناہے کہ ذکریا لوٹ مار کرکے بھاگ رہا تھا۔ جبکہ لواحقین اس الزام کومسترد کرکے تحقیقات کا مطالبہ کررہے ہیں واقعے کے حوالےسے پولیس نے تین مقدمات گذری تھانےمیں درج کرلئے ہیں، لواحقین نے لاش کے ساتھ احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔

تفصیلات کے مطابق لیاری کے بے گناہ نوجوان کو کراچی کے علاقے گذری میں پولیس نے مبینہ جعلی مقابلے میں مار ڈالا،مارے جانے والے نوجوان ذکریا جونیجو کے والد نے بتایا کہ ان کا بیٹا ایک ہفتے قبل ملائیشیا سے کراچی آیا تھا، گذشتہ روز رقم نکلوانے کیلئے گھر سے اے ٹی ایم کارڈ لیکر گیا جہاں پولیس نے اسے جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کردیا.

انہوں نے مطالبہ کیا کہ جعلی پولیس مقابلے میں ذکریا کی ہلاکت کا مقدمہ درج کرکے ملوث پولیس اہلکاروں کو گرفتار کیا جائے۔

دو سری جانب پولیس کا مؤقف ہے کہ ذکریا اور اس کا ساتھی اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں ملوث ہیں اور گذشتہ روز لوٹ مار کر رہے تھے اور اس دوران پولیس کا ان سے مقابلہ ہوا جس میں ذکریا مارا گیا جبکہ اس کا ساتھی زخمی حالت میں گرفتار ہوا ہے۔ واقعے کی مزید تحقیقات بھی جاری ہیں۔

وزیرداخلہ سندھ سہیل انور سیال نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق مہر کوہدایت کی ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔

دوسری جانب واقعے میں ہلاک ہونے والے ذکریا جونیجو کی نماز جنازہ کھارادر امام بارگاہ میں ادا کی گئی جس کے بعد ورثاء نے لاش کے ہمراہ آٹھ چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ لیاری کے اندر ماورائے قانون قتل کی وارداتیں بند کی جائیں ۔ اور ایسا کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف اعلیٰ حکام سخت ایکشن لیں۔

ادھرگذری پولیس نے مشکوک پولیس مقابلے کی تحقیقات کا آغاز کرنے سے قبل ہی مبینہ مقابلے میں ہلاک ذکریا کے خلاف تین مقدمات درج کردیئے۔

 ایس ایچ او گذری کے مطابق دو مقدمات سرکاری مدعیت میں درج کئے گئے ہیں، جوکہ پولیس مقابلے اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں درج ہوئے جبکہ لوٹ مارکا ایک مقدمہ احسن نامی شہری کی مدعیت میں درج ہوا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں