ہفتہ, دسمبر 13, 2025
اشتہار

مولوی محمد ذکاءُ اللہ: ایک نادرِ روزگار شخصیت

اشتہار

حیرت انگیز

مولوی محمد ذکاءُ اللہ انیسویں صدی کی ایک نادرِ روزگار شخصیت گزرے ہیں تھے۔ وہ متحدہ ہندوستان میں تعلیمِ نسواں کے زبردست حامی مشہور تھے۔ شمس العلماء مولوی ذکاء اللہ کو اپنے زمانہ میں علمی اور ادبی مشاغل کے سبب بڑا مقام و مرتبہ حاصل ہوا اور معاشرتی اصلاح کے لیے ان کی کوششوں کی بنیاد پر انھیں بڑی عزّت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

ذکاءُ اللہ نے جس دور میں آنکھ کھولی اور سنِ شعور کو پہنچے، اس میں ہندوستانی معاشرے پر مغربی تہذیب اپنا رنگ جما رہی تھی۔ انگریز ہندوستان پر قابض ہوچکے تھے اور ان کی وجہ سے سماج میں نئی تہذیب کو پنپنے کا موقع مل رہا تھا جب کہ مسلمان اکابرین کو نظر آرہا تھا کہ اگر ان کے بچّے تعلیمی میدان میں پیچھے رہے تو اپنی روایات اور اقدار کا تحفظ بھی نہیں کرسکیں‌ گے۔ ان حالات میں مولوی ذکاءُ اللہ اردو زبان کے فروغ کے لیے اور تعلیمِ نسواں کے پرچارک بن کر سامنے آئے۔

ادبی تذکروں کے مطابق مولوی ذکاءُ اللہ کا تعلق دہلی کے کوچہ بلاقی بیگم سے تھا اور انھوں نے علمی، ادبی اور دینی ماحول میں‌ پرورش پائی تھی۔ ان کا سنہ پیدائش 1832ء ہے۔ مولوی ذکا اللہ کی ابتدائی تعلیم ان کے دادا حافظ محمد بقاءُ اللہ اور والد حافظ محمد ثناءُ اللہ کے زیرِ سایہ مکمل ہوئی۔ کم عمری ہی میں وہ عربی اور فارسی کی کتابیں پڑھنے کے عادی ہوگئے تھے اور مطالعہ سے گہرا شغف رکھتے تھے۔

مولوی ذکا اللہ نے دہلی کالج میں داخلہ لیا تو ان کی دل چسپی سائنس کی طرف زیادہ رہی اور ریاضی ان کا پسندیدہ مضمون ٹھہرا۔ اس مضمون میں مہارت ایسی بڑھی کہ اردو زبان میں ریاضی کی پہلی کتاب لکھ ڈالی۔ وہ ریاضی کے ایک ممتاز عالم اور مشہور استاد ماسٹر رام چندر کے چہیتے شاگرد بن گئے۔ مولوی ذکاء اللہ کی ریاضی میں قابلیت اور مہارت نے انھیں دہلی کالج ہی میں اس مضمون کے استاد کی حیثیت سے عملی زندگی میں قدم رکھنے کا موقع دیا۔ بعد میں وہ آگرہ، بلند شہر، مراد آباد اور الٰہ آباد میں تعلیمی اداروں میں مختلف عہدوں پر فائز کیے گئے۔ مولوی ذکاء اللہ کو دہلی کالج کے بعد آگرہ کالج میں فارسی اور اردو کا مدرس بھی مقرر کیا گیا جب کہ میور سنٹرل کالج میں بھی عربی اور فارسی کے پروفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اپنے دور میں ذکاءُ اللہ دہلوی ماہرِ تعلیم مشہور ہوئے۔

انھوں نے تدریس کے ساتھ علمی و ادبی مضامین، مقالے اور کئی کتابیں لکھیں اور آخری سانس تک پڑھنے لکھنے کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ برطانوی عہد میں وہ شمسُ العلما کے علاوہ خان بہادر کے خطاب سے سرفراز کیے گئے۔ اس دور میں اردو زبان، تصنیف و تالیف اور علم و فنون کی ترویج کے لیے دہلی کالج کے قیام کے بعد بڑا کام کیا گیا جس میں مولوی ذکاءُ اللہ کی ریاضی اور طبیعیات کے مضمون پر اردو میں‌ درجنوں کتب شایع ہوئیں، ان کے مضامین نصاب کا حصّہ بنے۔ یوں تو مولوی ذکاء اللہ کا میدان سائنس اور ریاضی تھا، لیکن انھوں نے اردو زبان میں تاریخ نگاری کا سلسلہ بھی شروع کیا اور کئی جلدوں پر مشتمل تاریخِ ہندوستان لکھی۔ مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد کی تاریخ انھوں نے سلطنتِ انگلیشیہ کے نام سے لکھی۔ مولوی ذکاءُ اللہ کی ڈیڑھ سو سے زائد کتابوں کی اشاعت اور بہت سے دل چسپ اور مفید مضامین بھی قارئین میں‌ پسند کیے گئے۔ وہ نکتہ بیں‌ اور ایسے مصلح ثابت ہوئے جن کا کام نہایت افادی اور ایک بیش قیمت سرمایہ تھا جس سے ہندوستان بھر میں مسلمان مستفید ہوئے۔

7 نومبر 1910ء کو مولوی ذکاء اللہ اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے تھے۔ بطور مؤرخ، ماہرِ‌ تعلیم، اور مترجم ان کی تصانیف آج بھی اہمیت اور افادیت کی حامل ہیں۔

+ posts

اہم ترین

مزید خبریں