The news is by your side.

Advertisement

ذاکر نائیک نے متنازع بیان پر ملائیشیا سے معافی مانگ لی

کوالالمپور: معروف بھارتی مبلغ اور اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک نے ملائیشیا کے کثیرالثقافتی معاشرے میں قومیت کے حوالے سے حساس بیان دینے پر معافی مانگ لی۔

تفصیلات کے مطابق ذاکر نائیک کے باضابطہ معافی مانگنے سے ایک روز قبل ہی انہیں پولیس نے ان سے ان کے بیان کے بارے میں تفتیش کی تھی جس پر انہیں بے دخل کرنے کے مطالبے بھی سامنے آئے تھے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے کے مطابق حال ہی میں ڈاکٹر ذاکر نائیک نے ایک بیان کے دوران کہا تھا کہ ہندوؤں کو ملائیشیا میں اس سے 100 گنا حقوق حاصل ہیں جتنے بھارت میں مسلمان اقلیت کو ملتے ہیں‘ اس کے ساتھ انہوں نے یہ تجویز بھی دی تھی کہ چینی ملائیشیوں کو ان سے پہلے ملک بدر کرنا چاہیے تھا۔

مذکورہ بیان کے بعد ڈاکٹر ذاکر نائیک کو ملائیشیا سے بے دخل کرنے کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔ جس کے بعد پولیس نے ان سے امن و عامہ کے بگاڑ پر اکسانے کے مقصد سے جان بوجھ کر توہین کرنے کے الزام پر 10 گھنٹوں تک تفتیش کی تھی۔

حساس بیان پر ذاکر نائیک کو ملائیشیا میں بھی تفتیش کا سامنا

تاہم منگل کے روز ڈاکٹر ذاکر نائیک نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بدخواہوں نے ان کا بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا اور اسے ’حیرت انگیز جعلسازی‘ قرار دیا۔

بیان میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میرا ہر گز مقصد کسی فرد یا برادری کو پریشان کرنا نہیں تھا، یہ اسلام کی بنیادی تعلیمات کے خلاف ہے اور میں اس غلط فہمی کے لیے دل سے معذرت خواہ ہوں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں