(23 مئی 2026): کراچی میں قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کی پرواز پی کے 8303 حادثے کو 6 سال گزر گئے، جس میں عملے کے 8 ارکان سمیت 97 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اسی پرواز میں ایک چہرہ ایسا بھی تھا جو ماڈلنگ کی دنیا میں اپنی شناخت بنا چکا تھا ۔۔۔ وہ زارا عابد تھی۔
پاکستانی ماڈل زارا عابد 22 مئی 2020 کو کراچی میں گر کر تباہ ہونے والی پی آئی اے کی بدقسمت پرواز پر سوار تھی۔ اس پرواز نے لاہور سے کراچی کی طرف اڑان بھری، تو کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ یہ اڑان کئی گھروں کی خوشیاں اور خواب اپنے ساتھ لے جائے گی۔
زارا کی والدہ تعظیم جمال نے بتایا کہ حادثے سے ایک روز قبل زارا نے انھیں فون پر کہا تھا کہ وہ سرپرائز دیں گی۔ یہ بات اب ان کی زندگی کا سب سے بڑا دکھ بن گئی ہے۔
باپ کے انتقال کے بعد چھوٹی عمر میں زارا عابد نے گھر کی ساری ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں، گھر کی کفالت کا بوجھ اس کے کندھوں پر آ پڑا تھا۔ اہل خانہ کے لیے وہ صرف بیٹی نہیں، بیٹا بھی بن گئی تھی۔
چھ سال بیت جانے کے باوجود تعظیم جمال کے مطابق آج بھی زارا کی آواز اور ہنسی ان کے کانوں میں گونجتی ہے، اور دل کے زخم کو تازہ کر دیتی ہے۔


