The news is by your side.

Advertisement

قبائلی علاقہ جات امن کی شاہراہ پرگامزن

امریکہ میں ہونے والی 9/11 دہشت گردی کی بدترین واردات کے بعد اتحادی افواج نے افغانستان میں قائم طالبان حکومت اوروہاں موجود القاعدہ کے کنٹرول کا خاتمہ تو ممکن ہوا لکین وہاں پہلے سے موجود بد امنی کی لہرمیں بھی اضافہ ہوا جس پرقابو پانے کی غرض سے جہاں ڈیڑھ لاکھ اتحادی افواج کو تعینات کرناپڑا۔ انتظامی معاملات کو سنبھالنے کے لیے حامد کرزئی کی سربراہی میں حکومت بھی قائم کی گئی لکین حالات میں بگاڑ بڑھتا رہا جس کے بدترین اثرات پاک افغان سرحد سے متصل پاکستان کے قبائلی علاقوں اور خیبرپخونخواہ بھی شورش کی شکل میں مرتب ہوئے۔

یہ بات ایک حقیقت ہے قبائلی علاقے چترال سے وزیرستان تک بیرونی عوامل کے تناظر میں پیدا کی جانے والے بد امنی سے قبل پرامن تصور کئے جاتے تھے لیکن حالات کی ستم ضریفی کہ یہاں کے پندرہ لاکھ سے زائد باشندوں کو نہ صرف اپنے علاقے چھوڑنے پڑے بلکہ جان و مال کی بے پناہ قربانیاں دیں۔

گزشتہ پندرہ سالوں میں ملک بھر میں چالیس سے پچاس ہزار افراد جن میں خواتین، بچے، بوڑھے اور جواں شامل ہیں، اپنی زندگیاں گنوا چکے ہیں۔ ایک طرف عام شہیریوں کی قربانیاں ہیں تو وہی سول قانون نافذ کرنے والے ادارے اورپاکستان آرمی نے بھی 2001 سے شروع ہونے والے آپریشن المیزان سے موجودہ ضربِ عضب کے دوران دس ہزارافراد نے جان کی قربانیاں دیں جن میں فوج کے 4188افسر و جوان شامل ہیں، جبکہ 14840زخمی ہوئے۔

یہ ان افراد کی قربانیاں ہیں کہ قبائلی علاقہ اور خیبر پختونخواہ جو انتہا پسندوں کی آماجگاہ بن گیا تھا اب اس کے 99.2 فی صد علاقہ جو 100927سکوئر کلومیٹر بنتا ہے دوبارہ محفوظ بناکرنہ صرف دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ختم کردیے گئے ہیں بلکہ ان کو پاک افغان سرحد سے باہر دھکیلتے ہوئے ان کی واپسی کو روکنے کی غرض سے سرحد پرافغانستان کی 145 چیک پوسٹوں کے مقابلے میں دس ہزار فٹ بلندی پر 535چیک پوسٹیں قائم کردی گئی ہیں جہاں ابتدائی چار سے پانچ سال آرمی تعینات ہوگی اور پھرفرنٹئیر کور جس کی یونٹوں کو 10 سے 79تک بڑھایا جارہا ہے، وہاں مستقل تعینات کیا جانے کا منصوبہ زیرغور ہے۔

چند روز ہونے والی ایک بریفنگ میں بتایا گیا کہ اعشاریہ آٹھ فیصد علاقہ جو 814 اسکوئرکلومیٹربنتا ہے یہاں حکومتی عمل داری تو کمزورہے لیکن دہشت گرد بھی وہاں موجود نہیں، ان میں خیبرایجنسی کا پاک افغان سرحد پرواقعہ علاقہ راجگال اورشمالی وزیرستان کا لواڑہ منڈی شامل ہے۔

بریفنگ میں جب ضرب عضب کی کامیابیوں اور اس کے اختتام کے حوالے سے پوچھا گیا تو بتایا گیا کہ ضرب عضب میں آرمی کی براہ راست کاروائیاں تو ختم ہوگئی ہے اور اب کسی باقاعدہ آپریشن کی ضرورت بھی باقی نہ رہی البتہ دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر سرچ اپریشن شروع کئے گئے ہیں جن کی تعداد 3580بتائی گئی ہے اور گرفتاریاں 9209 ہیں لیکن ان میں کوئی اہم دہشت گرد شامل نہیں ہے۔

تاہم دہشت گردوں کی ہلاکت اورزخمی ہونے کے حوالےسے بتایا گیا کہ ضرب عضب آپریشن میں خفیہ اداروں کی اطلاعات کے مطابق 2820 دہشت گرد ہلاک، 943زخمی،1095 گرفتار اور 1237نے اپنے آپ کو حکومت کے حوالے کیا ہے اور اس دوران کثیر تعداد میں اسلحہ و بارود دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے برآمد کیا گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں یہ بھی معلوم ہوا کہ سوات، مہمند اور باجوڑ ایجنسیوں، پشاور، چارسدہ و مردان میں دہشت گرد اپنے سہولت کاروں کے ذریعے کبھی نہ کبھی کاروائی کرکے اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں لیکن ان علاقوں میں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں اور بارودی مواد بھی برآمد کیا جارہا ہے جس کے باعث دہشت گردی کے کئی واقعات کو قبل از وقت روکا بھی گیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں