The news is by your side.

Advertisement

میں نے 8 سال 3 مہینے این آر او نہیں مانگا تو اب کیوں مانگوں گا، آصف زرداری

اسلام آباد : سابق صدر آصف زرداری نے کہا میں نے 8 سال 3 مہینے این آر او نہیں مانگا تو اب کیوں مانگوں گا، وزیراعظم پہلےمیثاق معیشت پراپنا مؤقف واضح کریں۔

تفصیلات کے مطابق سابق صدر آصف زرداری نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو میں کہا 8 سال 3ماہ پہلے این آر او نہیں مانگا تو اب کیوں مانگوں گا؟

آصف زرداری کا کہنا تھا وزیراعظم پہلےمیثاق معیشت پراپنامؤقف واضح کریں، وزیراعظم کی تجاویز سامنے آئیں گی تو پھراپنی پارٹی سے بات کریں گے اور میثاق معیشت پردیگرجماعتوں سےبھی بات کریں گے،آصف زرداری

میثاق معیشت پر حکومتی آمادگی سے متعلق سوال کے جواب میں آصف زرداری نے کہا کہ اسپیکر کے کہنے سے کچھ نہیں ہوتا، اسپیکر کسی جماعت سے نہیں بلکہ نیوٹرل ہوتا ہے۔

وزیراعظم کے ایمنسٹی اسکیم اچھوں کے لئے اچھی اور بروں کے لئے بری کے بیان سے متعلق سوال آصف زرداری نے جواب دیا کہ پھر تو ایمنسٹی اسکیم عمران خان کے لئے بری ہوگی۔

سابق صدر نے کہا کہ فاٹا الیکشن میں پولنگ اسٹیشن کے اندر فوج کی تعیناتی بحث طلب ہے۔

مزید پڑھیں :  نیب کا رویہ میرے ساتھ عزت والا ہے، آصف زرداری

گذشتہ روز بھی میڈیا سے گفتگو کرتے آصف زرداری کا کہنا تھا کہ  نیب کا رویہ میرے ساتھ بہت اچھا اور عزت والا ہے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے چوٹ کھا لی ہے اب حالات ٹھیک ہوجائیں گے، چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی کا فیصلہ بلاول بھٹو کریں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ نیب کا رویہ میرے ساتھ عزت والاہے ، میں بھی نیب حکام کی دل سے عزت کرتاہوں، اگر حکومت یا کسی سے این آر او لینا ہوتا تو یہاں نہیں بیٹھا ہوتا، تفتیشی حکام اپنی استعداد کےمطابق مجھ سے سوال کرتے ہیں اور میں اُن سے تعاون کرتا ہوں۔

آصف زرداری کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے ساتھ تو بیٹھ گئے مگر عمران خان کے ساتھ مستقبل میں بیٹھنا بہت مشکل ہے کیونکہ وہ سیاسی قوت سے نہیں آئے، آج اور مشرف کی حکومت میں صرف ایک ہی فرق ہے

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں