گلی گلی میں شور ہے‘ نواز شریف چور ہے: زرداری -
The news is by your side.

Advertisement

گلی گلی میں شور ہے‘ نواز شریف چور ہے: زرداری

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے پاناما کیس کا فیصلہ آنے کے بعد سابق صدرپاکستان آصف علی زرداری نے ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف سے استعفیٰ طلب کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق پاناما کیس کے فیصلے کے بعد بلاول ہاؤس اسلام آباد میں پیپلزپارٹی کا ہنگامی اجلاس ہوا جس کے بعد پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدرآصف علی زرداری کی جانب سے شام 4 بجے پریس کانفرنس طلب کی ۔

ان کا کہناتھا کہ پانچ میں سے دو ججز نے وزیراعظم کے خلاف واضح فیصلہ دیا ہے جبکہ تین ججز نے مزید تحقیقات کا حکم دیا ہے‘ ان کو مٹھائی بانٹتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔

سابق صدر نے یہ بھی کہا کہ پیپلز پارٹی کا ہمیشہ سے شکوہ ہے کہ عدالتیں نواز شریف کے خلاف فیصلے نہیں سناتی‘ کیا نواز شریف سرکاری افسران کے سامنے پیش ہوں گے۔

انہوں نے تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ ہم نے انہیں اپنے ساتھ مل کر جدوجہد کرنے کی پیشکش کی تھی لیکن انہوں نے ناتجربے کاری کی بنا پرانجانے میں نوازشریف کو فائدہ پہنچایا ہےاور جمہوریت کو کمزور کیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ اب میاں صاحب اپنا شریف چہرہ دنیا کے سامنے پیش نہیں کرسکیں گے‘ اب ہرشخص جانتا ہے کہ ان کے خلاف کرپشن کی تحقیقات جاری ہیں اور ’گلی گلی میں شور ہے نواز شریف چور ہے‘۔


اوپن ہارٹ سرجری ہونی تھی، پر یہ تو ہومیو پیتھک نکل آیا


 اس سے قبل سندھ کے صوبائی وزیراطلاعات مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس اخلاقی جواز ختم ہوچکا ہے‘ مٹھائی کس بات کی بٹ رہی ہے؟۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاناما کیس ابھی ختم نہیں ہوا ‘ ابھی تحقیقات باقی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے آئندہ ردعمل سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ میرے قائد اسلام آباد میں موجود ہیں جلد ہی ان کی جانب سے موقف آجائے گا۔

پاناما کیس کا فیصلہ

عدالت عظمیٰ کے لارجر بنچ میں سے دوججز چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اورجسٹس اعجاز افضل نے وزیراعظم کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا فیصلہ کیا تاہم جسٹس اعجازالاحسن‘ جسٹس عظمت سعید شیخ اورجسٹس گلزار نے وزیراعظم اور ان کے بچوں کے خلاف جے آئی ٹی کے تحت تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں رقم قطر جانے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا ہے‘ جے آئی ٹی میں نیب ‘ آئی ایس آئی ‘ ایم آئی ‘ ایف آئی اے اور سیکیورٹی ایکسچینج کا نمائندہ شامل ہوگا۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک
وال پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں