The news is by your side.

Advertisement

کراچی: سگریٹوں کے ڈبے اور پکے ہوئے سرخ بادام

میں جب پانچ برس کی ہوئی تو یہ مشترکہ خاندان میٹھا در سے اٹھ کر پیر الہیٰ بخش کالونی کے ایک دو منزلہ مکان میں منتقل ہوگیا تھا، جس میں لگے امرود کے پیڑوں کی پھل دار شاخیں دوسری منزل کے کمرے کی کھڑکی اور چھجے تک آتی تھیں۔

ہم بچّے چلچلاتی دوپہر کی خاموشی میں کچّے امرود توڑ توڑ کر کھاتے اور پیر کالونی کی خاک آلود گلیوں میں کھیلا کرتے۔

ایک سال بعد پھر نقل مکانی ہوئی۔ دادا کا انتقال چکا تھا۔ محمود بھائی اپنے کبنے کے ساتھ ملیر جابسے تھے، اب ہم سب لوگ شہید ملت روڈ سے متصل پنجابی سوداگران ہاؤسنگ سوسائٹی میں واقع کرائے کے دو منزلہ مکان میں اٹھ آگئے تھے، جس میں چار فلیٹ تھے۔ ایک فلیٹ میں دہلی کا ایک مختصر سا خاندان تھا۔

یہ 1959ء کی بات ہے۔ تب کراچی کی زمین میں ہم بچّوں کے لیے وسیع کائنات تھی۔ سوسائٹی میں اکا دکا مکانات تھے۔ ہماری گلی میں صرف تین مکان تھے۔ ہمارے مکان سے متصل مالک مکان، تقی صاحب کا گھر اور گلی کے سرے پر ایک ایک اور مکان، باقی پلاٹ خالی تھے۔ دوسری گلیوں میں بھی یہی صورتِ حال تھی۔ ہر گھر کے احاطے اور احاطے سے باہر مختلف طرح کے پیڑ پودے ہوتے تھے۔

ہمارے گھر میں عین مقابل ایک کھنڈر سا تھا۔ غالباً کسی نے چار دیواری اٹھائی تھی، پھر کسی وجہ سے دیواریں منہدم کردی گئی تھیں۔ اینٹوں کے ملبے، ٹوٹی ہوئی دیواروں اور خودر رو جھاڑیوں میں چھپکلیاں اور گرگٹ رینگا کرتے۔

احتشام بھائی جان اور انعام بھائی (میرے تایا زاد بھائی) گنیں لیے ان گرگٹوں کا شکار کیا کرتے، مجھ سے چھ برس بڑے ضیا بھائی کا وقت انعام بھائی کے ساتھ گزرتا۔ نورالصباح، عائشہ (تایا زاد)، صبحیہ (چچا زاد)، میں، عذرا اور ریاض۔ ہم بچّوں کا غول زیادہ وقت باہر ہی منڈلاتا رہتا۔
ہم سب بہن بھائیوں کو باہر گھومنے کی یکساں آزادی تھی۔ ہم گلیوں اور سڑکوں سے سگریٹوں کے خالی پیکٹ اکٹھا کر کے ان کے قلعے اور مینار بناتے، جن کو بنانے سے زیادہ ڈھانے میں لُطف آتا۔

کانچ کی چوڑیوں کے ٹکڑے چن کر انھیں آگ دکھا کر زنجیریں تیار کی جاتیں۔ تب کراچی میں کوڑے کرکٹ کے ڈھیر اتنے نہ ہوتے تھے۔ پلاسٹک کی تھیلیوں کا رواج نہ تھا۔ کاغذ کی پڑیوں یا پھر سلے ہوئے کپڑے کے تھیلوں میں سودا آتا۔ سڑکوں پر کاغذ، سگریٹوں کے ڈبے اور ٹوٹی پھوٹی چیزیں تو پڑی ہوتی تھیں، لیکن گیلا کچرا نہ ہوتا تھا۔

کراچی میں تتلیاں بھی بے تحاشہ ہوتی تھیں۔ خاص طور پر برسات کے بعد تتلیاں امنڈ آتیں۔ ہم بچّوں نے تتلیوں کے مختلف نام دیے ہوئے تھے۔ سبز اور سیاہ “بادشاہ تتلی”، نارنجی پروں پر سیاہ و سفید دھبے والی “ملکہ تتلی” نقرئی جامنی “شہزادی تتلی” انعام بھائی نے ایک چھوٹا سا جالی کا ڈبا بھی بنایا تھا، جس میں وہ تتلیوں کو پکڑ کر بند کرتے، مجھے اور نور الصباح کو تتلیاں چھونے کا بڑا شوق تھا۔ ہم منت سماجت کرکے ڈبے سے تتلی نکلواتے پھر فخر کے ساتھ انگلیوں پر اترے رنگ ایک دوسرے کو دکھاتے۔

بارش کے بعد میدان میں بیر بہوٹیاں امنڈ آتیں اور سب بچّے ماچس کی خالی ڈبیا لیے ہوئے بیر بہوٹیوں کو پکڑنے میں شام کر دیتے، پھر اپنی اپنی ڈھونڈی ہوئی بیر بہوٹیاں گنی جاتیں اور پھیلی ہوئی ہتھیلیوں پر رکھی سرخ مخملی مخلوق پر انگلیاں بھیری جاتیں۔

آج یہ بات یاد کرتے ہوئے بھی عجیب سا محسوس ہوتا ہے کہ کراچی میں کبھی بچّے تتلیاں اور بیر بہوٹیاں پکڑا کرتے تھے۔ یا یہ کہ کبھی یہاں قدم قدم پر بڑے بڑے سبز پتوں والے بادام کے پیڑ ہوتے تھے اور زمین پکے ہوئے سرخ باداموں سے پٹی رہتی تھی۔

(معروف ادیب اور مضمون نگار زینت حسام کی کتاب سے اقتباسات)

Comments

یہ بھی پڑھیں