The news is by your side.

Advertisement

دنیا کی پہلی اڑن طشتری بن گئی

زیوا ایرو نامی کمپنی نے اڑنے والی ایک جدید ترین مشین بنا لی ہے جو ہیلی کاپٹر کی طرح عمودی ٹیک آف اور لینڈنگ کرتی ہے لیکن ایک ہوائی جہاز کی طرح فضا میں سفر کرتی ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ کہانیوں کی اڑن طشتری کا خواب سچ بن گیا ہے، اسکائی ڈوک نامی اس مشین کی آزمائش جاری ہے، اس میں فی الوقت صرف ایک شخص بیٹھ سکتا ہے، اور یہ مشین دم پر کھڑی ہوتی ہے، اس کی شکل اڑن طشتری جیسی بنائی گئی ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اسے کاربن فائبر سے بنایا گیا ہے، اس کی طشتری نما پلیٹ کا اصل قد 8 فٹ اور وزن 317 کلوگرام ہوگا، اس کے اندر ایک انسان کے کھڑے ہونے کے جگہ بنائی گئی ہے اور اوپر کی جانب شفاف شیشہ ہے جس سے باہر دیکھا جا سکتا ہے۔

اس مشین میں اگلی جانب پنکھڑی نما پروپیلر لگے ہیں جب کہ پروپلشن سسٹم آگے اور پیچھے کی جانب لگائے گئے ہیں، پہلے مرحلے میں 20 کلوواٹ آور تجارتی ماڈل میں 25 کلوواٹ آور کی بیٹری نصب کی جائے گی، تاہم پورے نظام کو محفوظ بنانے کے لیے خصوصی حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔

زیوا ایرو کے مالک واشنگٹن اسٹیٹ یونیورسٹی کے سابق طالب علم اسٹیفن ٹِبِٹس ہیں، انھوں نے چند دن قبل N901ZX کے ایک ورکنگ پروٹو ٹائپ کی نقاب کشائی کی، یہ ایک eVTOL گاڑی ہے جو ہنگامی خدمات کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔ یہ ایک ہی چارج پر 160 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے 50 میل تک پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، زمین سے اٹھنے میں اسے صرف 20 سیکنڈ لگتے ہیں۔

ZEVA Aero نے امید ظاہر کی ہے کہ اس نئی فلائنگ مشین کو جلد ہی آسمانوں پر اڑان بھرنے کے لیے پیش کر دیا جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں