پیر, جون 15, 2026
اشتہار

پنکی دھڑلے سے کہتی تھی مجھے گرفتار کرو، ہم نے اسے گرفتار کر لیا، وزیر داخلہ سندھ

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی : وزیرداخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کا کہنا ہے کہ پنکی دھڑلے سے کہتی تھی مجھے گرفتار کرو، ہم نے اسے گرفتار کر لیا، اب اس کے ساتھیوں کا بھی یہی حشر ہوگا۔ یہ ہمارے لیے ٹیسٹ کیس ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ملزمہ انمول عرف پنکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دھڑلے سے چیلنج کرتی تھی کہ اسے گرفتار کر کے دکھایا جائے تو اس کےخلاف کارروائی کی۔

ضیا الحسن لنجار نے انکشاف کیا کہ ملزمہ پنکی نے دورانِ تفتیش خود اعتراف کیا ہے کہ صرف کراچی شہر میں اس کے 800 باقاعدہ گاہک موجود ہیں۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ "پنکی میڈیا میں ہیروئن بن کر گھوم رہی تھی، اسی لیے ہم نے سیکیورٹی اور دیگر وجوہات کی بنا پر اس کا ٹرائل جیل کورٹ میں چلانے کا فیصلہ کیا ہے”۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس نیٹ ورک سے منشیات خریدنے اور استعمال کرنے والے تعلیمی اداروں کے بچوں اور بچیوں کے نام معاشرتی بدنامی سے بچانے کے لیے سامنے نہیں لائے جائیں گے۔ تاہم، پنکی کے دیگر تمام ساتھیوں اور اس گینگ کو پسِ پردہ چلانے والے بڑے مہروں کو ہر صورت قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔

وزیر داخلہ سندھ نے صوبے میں منشیات اور گٹکے کے پھیلاؤ کو معاشرے کا ایک بہت بڑا المیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ گٹکے کے بے جا استعمال کی وجہ سے منہ کے کینسر میں ہولناک اضافہ ہو چکا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ کراچی، حیدرآباد، میرپور خاص اور شہید بینظیر آباد (نوابشاہ) میں گٹکے کا استعمال سب سے زیادہ ہے۔

ضیا الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ گٹکا ماوا سے متعلق موجودہ قانون قابلِ ضمانت ہے جس کا فائدہ اٹھا کر کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ ‘لیگل گٹکا’ بنا رہے ہیں، جو کہ سراسر غلط ہے۔ اس کے علاوہ سپاری اور چھالیہ کسٹمز کے ذریعے غیر قانونی طور پر اسمگل ہو کر آ رہی ہے جس کا استعمال بند ہونا چاہیے۔

وزیر داخلہ نے ارکانِ صوبائی اسمبلی کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اب تمام ایم پی ایز کو خود ذمہ داری لینا ہوگی اور وہ اپنے علاقوں میں ایسے جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی بالکل بند کر دیں۔

انہوں نے دوٹوک انداز میں خبردار کرتے ہوئے کہا: "میں صوبے کا وزیر داخلہ ہوں اور مجھے اچھی طرح پتہ ہے کہ کہاں پر، کون اور کیا کچھ کر رہا ہے۔ منشیات فروشوں کو ہر حال میں عبرت کی مثال بنایا جائے گا۔”

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں