The news is by your side.

Advertisement

ناراض بلوچوں سے بات چیت پورے ملک کا مسئلہ ہے، ضیا اللہ لانگو

کوئٹہ: بلوچستان کے وزیر داخلہ ضیا اللہ لانگو نے کہا ہے کہ طالبان کے اسپین بولدک پر کنٹرول کے بعد چمن سرحد پر سیکیورٹی فورسز کی اضافی نفری کو تعینات کردیا گیا، ناراض بلوچوں سے بات چیت پورے ملک کا مسئلہ ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق وزیرداخلہ  بلوچستان ضیا اللہ لانگو کا کہنا تھا کہ طالبان کے اسپین بولدک پر کنٹرول کے بعد ہماری فورسز الرٹ ہیں جبکہ اضافی نفری کو چمن سرحد پر بھیج دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم ہر قسم کے حالات سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں، افغانستان میں آنے والی تبدیل اُن کا اندرونی معاملہ ہے، امید کرتے ہیں کہ افغان سرزمین ماضی کی طرح اب پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی‘۔

مزید پڑھیں: ناراض‌ بلوچوں‌ کو منانے کا مشن، شاہ زین بگٹی کو اہم سرکاری ذمہ داری تفویض

وزیرداخلہ نے کہا کہ ’دعاگوہیں کہ نئی تبدیلیاں دونوں ممالک کیلئے خوش گوار ہوں‘۔

انہوں نے  مزید کہا کہ ’ ناراض بلوچ رہنماؤں سے بات چیت پورے ملک کامسئلہ ہے، وزیراعظم کا شازین بگٹی کو مذاکرات کا ٹاسک دینا  بہت اہم پیشرفت ہے‘۔

واضح رہے کہ ناراض بلوچوں سے بات چیت اور انہیں قومی دھارے میں لانے کے حوالے سے حکومت نے کام شروع کردیا ہے، جس کے تحت شاہ زین بگٹی کو اہم سرکاری ذمہ داری دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان کا اسپین بولدک پر قبضہ، را اور این ڈی ایس کی پاکستان مخالف بڑی سازش بے نقاب

یاد رہے کہ دو روز قبل افغان طالبان نے پیش قدمی کرتے ہوئے پاک افغان سرحد کے قریب واقع اسپین بولدک پر قبضہ کیا، جس کے بعد پاکستان نے چمن سرحد کو آمد و رفت کے لیے مکمل بند کردیا جبکہ وہاں پر فورسز کی اضافی نفری بھی تعینات کردی گئی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں