The news is by your side.

Advertisement

زیکا وائرس: کیا ہے اور کیسے پھیل رہا ہے؟

عالمی ادارۂ صحت یعنی ڈبلیو ایچ او نے متنبہ کیا ہے کہ زیکا وائرس ’خطرناک حد تک پھیل‘ رہا ہے اور رواں سال اس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 40 لاکھ ہونے کا خدشہ ہے۔ ڈبلیو ایچ اونے اسے عالمی سطح پرخطرہ قراردیتے ہوئے ہیلتھ ایمرجنسی بنافذ کی ہے۔

یہ وائرس جنوبی امریکی خطے کے 29 ممالک میں اب تک پھیل چکا ہے تاہم برازیل اور اس کے بعد کولمبیا اس وقت خطے میں اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کی ڈائریکٹر ڈاکٹر مارگریٹ چین کا کہنا ہے کہ ’زیکا وائرس معمولی خطرے سے ہنگامی صورتحال تک پہنچ گیا ہے اور اس کے دل دہلا دینے والے اثرات ہیں۔‘ جنوبی امریکہ کے ملک کولمبیا میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے کے دوران زِیکا وائرس سے متاثرہ حاملہ خواتین کی تعداد میں دوگنا اضافہ ہو گیا ہے۔

کولمبیا میں نیشنل ہیلتھ انسٹیٹیوٹ کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں زیکا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 20 ہزار سے زائد ہے جبکہ ان میں تقریباً دو ہزار حاملہ خواتین ہیں۔ زیکا وائرس کی علامات بہت معمولی سی ہیں۔ برازیلی وزارتِ صحت نے اس بیماری کی وجہ سے غیر معمولی طور پر چھوٹے سر والے بچوں کی پیدائش کے 270 واقعات کی تصدیق کی ہے جبکہ ایسے 3448 واقعات کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔ اس وائرس اور غیر معمولی بیماری کے آپس میں تعلق کی تصدیق تو نہیں ہوئی ہے تاہم ڈاکٹر چین کا نے کہا ہے کہ ’یہ کافی حد تک ممکن ہو سکتا ہے اور کافی خطرناک ہے۔

زیکا وائرس کی علامات

زیکا وائرس بھی ایک مچھرکے کاٹنے سے پھیلتا ہے اوراس سے متاثرہ افراد کو بخار، جوڑوں کا درد اورآنکھوں میں جلن محسوس ہوتی ہے۔ ۔اس وائرس کی نمایاں علامات میں بخاراورجلدکا پھٹ جانا ہے سب سے زیادہ خدشات اس بات کے ہیں کہ دوران پیدائش بچوں کی اموات ہوسکتی ہیں۔

زیکا وائرس سے بچاؤ

ماہرین کا کہنا ہے کہ مچھروں سے پھیلنے والی یہ بیماری دنیا میں تیزی سے پھیل رہی ہے جس سے بچاؤ کا علاج فی الوقت ممکن نہیں ہے۔ ایک فرانسیسی دوا ساز ادارے نے زیکا وائرس کی ویکسین پر تحقیق شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نئی ویکسین کی تیاری کا کام ڈینگی فیور کی ویکسین کی تیاری میں مصروف شعبے کو سونپا گیا ہے۔زیکا وائرس شمالی اور جنوبی امریکا کے 20سے زیادہ ملکوں میں پھیل چکا ہے اور عالمی ادارہ صحت نے زیکا وائرس کے خطرناک حد تک پھیلاؤ کے پیش نظر ایک ہنگامی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں