شوبز انڈسٹری کی ابھرتی ہوئی اداکارہ زوہا توقیر کا کہنا ہے کہ والد کا انتقال ہوا تو چار سال کی تھی ان کی خوبصورت یادیں آج بھی تازہ ہیں۔
اداکارہ زوہا توقیر نے حالیہ انٹرویو میں کم عمری میں والد کے انتقال اور والدہ کی دوسری شادی کے فیصلے کی حمایت کرنے کے بارے میں اظہار خیال کیا۔
انہوں نے بتایا کہ جب والد کا پھیپھڑوں کے کینسر کی وجہ سے انتقال ہوا تو میں صرف چار سال کی تھی، والد اور بیٹی کے اس خوبصورت رشتے کی یادیں اب بھی ذہن میں تازہ ہیں۔
اداکارہ نے کہا کہ مجھے والد کے ساتھ گزاری ہوئی زندگی کا کافی حصہ یاد ہے، میں سب سے لاڈلی بچی تھی، انہیں پھیپھڑوں کا مسئلہ تھا اور ان کے بائیں جانب درد ہوتا تھا لیکن پھر بھی وہ مجھے گود سے نہیں اتارتے تھے۔
Lifestyle News – Latest Entertainment News, Celebrity Gossip
زوہا توقیر نے بتایا کہ والدہ خاندان کا مضبوط ستون بن گئیں جنہوں نے انتھک محنت کی تاکہ بچوں کو کبھی بھی والد کی کمی محسوس نہ ہو، روزمرہ زندگی کے کچھ لمحات جیسے اسکول میں داخلہ فارم بھرنا اور بہن بھائیوں کے لیے حد سے زیادہ حفاظتی رویہ اختیار کرنا ہمیشہ اس نقصان کی یاد دلاتا تھا جس سے ہم گزرے تھے۔
اداکارہ نے کہا کہ میں نے اور بہن بھائیوں نے والدہ کی دوسری شادی کی فیصلے کو مخالفت کے بجائے سمجھداری سے قبول کیا، بچپن میں بھی ہم جانتے تھے کہ امی کا خوش رہنا کتنا ضروری ہے اور یہ فیصلہ کرتے وقت انہوں نے ہم سے اجازت بھی مانگی تھی۔
واضح رہے کہ زوہا توقیر نے اے آر وائی ڈیجیٹل ڈرامہ سیریل ’آپا شمیم‘ اور ’چالباز‘ میں مرکزی کردار نبھایا تھا۔


