The news is by your side.

Advertisement

پی ٹی آئی حکومت کا پاکستان میں پہلا ماحول دوست سائیکل ٹرانسپورٹ منصوبہ

پشاور: طویل انتظار کے بعد بی آر ٹی منصوبے میں شامل زو بائی سائیکل پر اب جلد پشاور کے شہری سفر کر سکیں گے، منصوبے کا آغاز رواں ماہ ہوگا، بڑی تعداد میں سائیکلیں بھی اسٹیشنز پر پہنچا دی گئیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان میں پہلی بار سائیکل بطور ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کے منصوبے کے آغاز میں چند ہی دن باقی رہ گئے ہیں، زو سائیکل کے چند اسٹیشنز پر سائیکل پہنچا دیے گئے، ٹرانس پشاور حکام کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں یونی ورسٹی آف پشاور اور حیات آباد سے سائیکل کا آغاز ہوگا، اس کے بعد مرحلہ وار شہر کے دوسرے علاقوں میں بھی سائیکل سروس دستیاب ہوگی۔

اے آر وائی نیوز سے بات کرتے ہوئے ترجمان ٹرانس پشاور نے بتایا کہ زو سائیکل منصوبے کا آغاز رواں ماہ میں ہوگا اور اس کے لیے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا 220 سائیکلز مختلف اسٹیشنز پر پہنچا دیے گئے ہیں، جب کہ سائیکل شیئرنگ منصوبے میں کل 360 سائیکلز شامل ہیں، زو سائیکل کی ساخت ایسی ہے کہ اس پر خواتین بھی بہ آسانی سفر کر سکتی ہیں، اس لیے زو سائیکل پر مرد و خواتین دونوں سفر سکتے ہیں۔

ترجمان ٹرانس پشاور محمد عمیر کا کہنا تھا زو سائیکل استعمال کرنے والے شہریوں کے 3 ہزار روپے قابل واپسی رجسٹریشن فیس جب کہ غیر ملکیوں کے لیے یہ فیس 5 ہزار روپے ہے، سائیکل سروس کے لیے 3 پاس جاری کیے گئے ہیں جن کے ریٹس مختلف ہیں۔

ترجمان کے مطابق زو سائیکل پر 30 منٹ تک سفر کرنے پر کوئی چارجز نہیں، جب کہ 31 سے 60 منٹ کا کرایہ 20 روپے، 60 سے 90 منٹ کا کرایہ 30 روپے، 90 سے 120 منٹ کا کرایہ 40 روپے، اور 120 یعنی 2 گھنٹوں کے بعد اس کا کرایہ 60 روپے ہوگا۔

ترجمان نے کہا ہفتے اور مہینے کا پاس استعمال کرنے والوں سے 5 اور 10 روپے کم کرایہ وصول کیا جائے گا، 72 گھنٹوں کے اندر سائیکل واپس کرنی ہوگی، اس کے بعد سائیکل لے جانے والا صارف چور تصور ہوگا اور اس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

انھوں نے مزید کہا رجسٹریشن کے لیے تصدیق شدہ شناختی کارڈ اور بائیو میٹرک کی تصدیق لازمی ہوگی۔

رجسٹریشن فیس سے شہری پریشان

دوسری طرف ماحول دوست سفری سہولت شروع کرنے پر شہری خوش تو ہیں لیکن رجسٹریشن فیس زیادہ ہونے سے پریشان بھی ہیں، ایگری کلچر یونی ورسٹی کے طالب علم محمد یاسین کا کہنا ہے کہ وہ بہت عرصے سے اس انتظار میں تھے کہ سائیکل سروس شروع ہوگی تو وہ اس پر یونی ورسٹی جایا کریں گے لیکن اب رجسٹریشن فیس کا سن کر وہ سوچ رہے ہیں کہ سائیکل پر سفر کروں گا یا نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 5 سے 7 ہزار روپے میں نارمل سائیکل مل جاتی ہے تو کیوں نہ 3 ہزار رجسٹریشن فیس جمع کرنے کی بجائے وہ اپنا ذاتی سائیکل لے لیں۔

یونی ورسٹی کی طالبہ حفصہ بنگش نے اے آر وائی نیوز کو بتایا کہ ان کو سائیکل رائیڈنگ کا بہت شوق ہے اور زو سائیکل پراجیکٹ شروع ہونے پر وہ بہت خوش ہے، لیکن 3 ہزار روپے رجسٹریشن فیس نے ان کو پریشان کر دیا ہے۔ حفصہ کا کہنا تھا کہ حکومت اگر رجسٹریشن فیس میں کمی کرے تو طلبہ اس پر سفر کرسکیں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں سائیکل بطور ٹرانسپورٹ شروع کرنے کا یہ پہلا پراجیکٹ ہے، اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ سائیکل استعمال کرنے والے ممالک میں نیدرلینڈ پہلے نمبر پر ہے، جب کہ ناروے، سویڈن، ڈنمارک اور جرمنی میں بھی بڑی تعداد میں لوگ آفس اور دیگر کاموں کے لیے سائیکل کا استعمال کرتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں