جمعرات, فروری 12, 2026
اشتہار

استاد کوثر کی غزلیں پڑھنے والے زبیر رضوی "خود کفیل شاعر” کیسے بنے؟

اشتہار

حیرت انگیز

یہ اردو کے معروف شاعر، مدیر و نقاد اور براڈ کاسٹر زبیر رضوی کی سوانح عمری سے ایک پارہ ہے جس میں انھوں نے دل چسپ انداز میں اپنے شاعر ‘بننے’ کا قصّہ بیان کیا ہے۔ زبیر رضوی تھے امروہہ کے، مگر نوعمری میں دکن آئے، اور وہیں تعلیم پائی۔ اسی دور میں مطالعہ کا شوق ہوا، کتابیں اور ادبی پرچے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر خریدتے اور پڑھتے، بعد میں وہ اور ان کے دوست بھی فن و ادب کی دنیا میں ممتاز ہوئے۔

معظم جاہی مارکیٹ (دکن) کے بارونق بازار میں فروٹ مارکیٹ کے سامنے ایک تنہا چار منزلہ عمارت ” مجرد گاہ” کے نام سے مشہور تھی۔ اس میں بچّوں کا رسالہ ” تارے” نکالنے والے مسلم ضیائی بھی ایک منزل پر رہتے تھے۔

مجرد گاہ سے متصل احمد مکی کی دکان تھی اور وہ ایوان نام کا رسالہ نکال رہے تھے۔ یہ وہی مجرد گاہ تھی جس کی آخری منزل پر "دکن نیوز” کے آفس میں کچھ سالوں بعد سلیمان اریب نے اپنے رسالے "صبا” کا دفتر کھولا تھا۔ اس مجرد گاہ کے گراونڈ فلور پر آپٹیکل کی ایک دکان تھی جس کے مالک اعجاز صاحب حیدر آباد میں جگر صاحب کے میزبان ہوا کرتے تھے۔مجرد گاہ میں حیدر آباد کے ادیبوں کی آمد و رفت کسی نہ کسی بہانے ہوتی رہتی تھی۔ ایک دن شاذ( حیدر آباد دکن کے مشہور شاعر) نے یہ خوش خبری سنائی کہ عثمانیہ یونیورسٹی میں مشاعرہ ہے اور جگر صاحب اس میں شرکت کر رہے ہیں۔ اس وقت تک میری شاعری کی کم اور ترنم کے دل کش ہونے کی اطلاع پھیل چکی تھی۔ یونیورسٹی احاطہ مشاعرہ کے شوقین طلبا اور اساتذہ سے بھر چکا تھا، ہو نہار طالب علموں میں دوسرا نام میرا پکارا گیا۔ میں کودتا پھلانگتا اسٹیج پر آیا اور بھرپور حیدرآبادی انداز میں جگر صاحب کو سلام کرنے کے لئے آدھا جھک گیا۔ جگر صاحب نے کسی قدر غور سے مجھے دیکھا اور بولے تم رامپور میں کوثر کے ساتھ تھے۔ میں نے جواباً کہا، جی۔ ایک نو عمر سے جگر صاحب جیسے مقبول ترین شاعر کی ہم کلامی ایک سند ہی تو بن گئی۔ جگر صاحب نے پیٹھ تھپتھپائی۔ میں غزل سنانے اٹھا تو میرا ترنم اور میرا نام زیادہ تر سامعین کے حافظے کا حصہ بن گیا تھا۔

حیدر آباد آنے کے چار سال کے بعد یونیورسٹی کے اس مشاعرے میں پہلی بار مجھے ایک ہونہار شاعر کی پہچان ملی اور اب میں ان شعری نشستوں میں جانے لگا تھا جن میں اس زمانے کے مستند شاعر جیسے امجد حیدر آبادی، طالب رزاقی، خیرات ندیم، قمر ساحری، شاہد صدیقی، اکبر حیدر آبادی، کنول پرشاد کنول، سرور ڈنڈا، سعید شہیدی، س۔ الف عشرت، عزیز قیسی، حمایت علی شاعر شرکت کرتے تھے۔ چند ہی نشستوں میں استاد کوثر کی دی ہوئی چار پانچ غزلیں گھس پٹ گئیں۔ اب میرا مسئلہ یہ تھا کہ میں ایک "خود کفیل شاعر” کیسے بنوں یعنی خود ہی شعر کہوں اور خود ہی سناؤں۔ خدا بھلا کرے میرے اندر کی وحشت کا کہ "عزت سادات” کے خطرے میں پڑ جانے کے دباؤ نے مجھے شعر کہنا سکھا دیا اور جب میں نے ایک غزل خود ہی کہی اور ایک نشست میں اس وقت کی مقبول شاعرہ سعادت جہاں اور مقبول شاعر اکبر حیدر آبادی سے زیادہ داد سمیٹی۔ میری غزل کا مطلع تھا۔

شبِ وصال کے جب ان سے تذکرے آئے
تو دور جاکے نگاہوں سے میری شرمائے

اس غزل کا ایک شعر یہ بھی تھا۔

گلوں کو چومنا چاہوں تو ٹوک دیتے ہیں
بہت عزیز ہیں کانٹوں کو اپنے ہمسائے

بہت دنوں تک مجھے خود بھی یقین نہیں آیا تھا کہ یہ شعر میں نے کہے ہیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں