The news is by your side.

Advertisement

توہین آمیز خاکے: زلفی بخاری کا یورپی اخباروں میں اہم ترین آرٹیکل، یورپی ممالک سے بڑا مطالبہ

اسلام آباد: حضور ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی اور خاکوں کے معاملے پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری نے یورپی اخباروں میں ایک اہم آرٹیکل لکھا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق زلفی بخاری کے آرٹیکل میں توہین کے معاملے کی حساسیت اور مسلم امہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچنے کا معاملہ اٹھایا گیا ہے، فرانسیسی صدر سے مسلمانوں کی آزادی اظہار رائے کو دوسرے مذاہب کی طرح تحفظ دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

زلفی بخاری نے آرٹیکل میں لکھا کہ کچھ روز قبل آزادی اظہار کے نام پر مسلمانوں کے خلاف ریڈ لائن کراس کی گئی، بطور مسلمان پاکستانیوں کے جذبات کی نمائندگی کرنے کے لیے آواز اٹھا رہا ہوں، چارلی ہیبڈو کے الم ناک حملوں کو تقریباً 6 برس بیت چکے ہیں، فرانس ابھی بھی وہ آزادی اظہار نہیں دے سکا جو تمام شہریوں کو متحد رکھ سکے۔

انھوں نے لکھا صدر میکرون کو اس معاملے میں اپنی قوم کی رہنمائی کرنی ہوگی، مسلمانوں کو وہی حفاظتی انتظامات مہیا کیے جائیں جو دوسری کمیونیٹیز کو دیے گئے ہیں، کوئی بھی دوسرا عمل فرانسیسی معاشرے کو کم زور اور جمہوری اقدار پامال کرے گا۔

زلفی بخاری نے لکھا مسلم دنیا میں فرانس کے معاشی بائیکاٹ کا رجحان بڑھ رہا ہے، یہ سمجھنا چاہیے کہ ایک شخص کی ثقافتی آزادی دوسرے شخص کے لیے نسل پرستی بھی ہو سکتی ہے، یہ بات وزیر اعظم عمران خان گزشتہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کہ چکے ہیں۔

انھوں نے لکھا 16 یورپی ممالک بشمول فرانس میں ہولوکاسٹ سے انکار کے خلاف قانون موجود ہے، میں نے کبھی تاریخ کے پروفیسرز کو اس قانون کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے نہیں دیکھا، ہولوکاسٹ سے انکار کرنے والے تاریخی واقعات سے آگاہ نہیں ہیں، ہولوکاسٹ کا انکار کرنے والے صرف یہودیوں کی نفرت میں تاریخ کا حوالہ دیتے ہیں۔

زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ چارلی ہیبڈو کے متنازعہ کارٹون نے ہمارے نبی کریم کی بدترین اور جھوٹی نقش نگاری کی، ہمارے نبی سے متعلق نقش نگاری فن یا اظہار رائے کی آزادی نہیں ہے، مقدس ہستیوں کے کارٹون بنانے کا مقصد مسلمانوں کو تکلیف پہنچانا ہے، اسی طرح جیسے یہودی مخالف لوگ ہولوکاسٹ کا انکار کر کے ان کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔

انھوں نے کہا یورپ کے لیڈرز سے مسلمانوں کی ایک سادہ درخواست ہے، یورپ کے حکمران اپنے قوانین کو منصفانہ طور پر لاگو کر دیں، یورپ میں ہمیں بھی وہی تحفظ فراہم کریں جو آپ دوسروں کو دیتے ہیں، آزادی اظہار رائے کی خلاف ورزی پر مسلمانوں کو بھی یہودی برادری جیسا تحفظ فراہم کریں۔

معاون خصوصی نے لکھا ہر برادری کی ایک ریڈ لائن ہوتی ہے جس کا تحفظ ہونا چاہیے، ہماری ریڈ لائن ہمارے نبی کریم ﷺ کی حرمت ہے جن سے ہم سب سے زیادہ پیار کرتے ہیں، انگریزی زبان کا کوئی بھی لفظ ہماری نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ محبت اور وفاداری کے معنی نہیں بتا سکتا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں