زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ میں تھا، سیکریٹری داخلہ
The news is by your side.

Advertisement

زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ میں تھا، سیکریٹری داخلہ

اسلام آباد: سیکریٹری داخلہ رضوان ملک نے کہا ہے کہ زلفی بخاری کا نام ای سی ایل میں نہیں بلکہ بلیک لسٹ میں تھا، 2015 میں سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے پالیسی تبدیل کی جس کے تحت محکمہ کام کررہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس اسلام آباد ایوانِ بالا میں منعقد ہوا جس میں عمران خان کے قریبی ساتھی زلفی بخاری کی بیرونِ ملک روانگی کے معاملے پر تفصیلی بحث ہوئی۔

سینیٹر جاوید عباسی کا کہنا تھا کہ زلفی بخاری کا نام کس کے حکم پر نکالا گیا جو وہ بیرونِ ملک روانہ ہوئے، لوگوں کو معلوم نہیں کہ ایگزیٹ کنٹرول لسٹ سے متعلق سرکاری پالیسی کیا ہے؟۔

جاوید عباسی کا کہنا تھا کہ قانون میں ایسی کوئی اجازت نہیں کہ کسی بھی شخص کا نام بلیک لسٹ کیا جائے پھر وزارتِ داخلہ نے کیسے زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ میں ڈالا اور خود سے نکال دیا؟۔

مزید پڑھیں: زلفی بخاری کیلئے کسی کو فون نہیں کیا، بلاوجہ مسئلہ بنا دیا گیا، عمران خان

سیکریٹری داخلہ نے کمیٹی کو بریفننگ دیتے ہوئے بتایا کہ 2015میں جوپالیسی تھی اسے چوہدری نثار نے تبدیل کیا اور اسی کے تحت کسی بھی شخص کا نام ای سی ایل میں ڈالنے اور نکالنے کا نظام بھی تبدیل ہوا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ای سی ایل سے نام نکالنے کا فیصلہ کابینہ کو کرنا ہوتا ہے اور یہی بات طے ہوچکی اس لیے محکمہ اسی پالیسی کے تحت کام کررہا ہے، زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ میں تھا۔ اسپیشل سیکریٹری داخلہ رضوان ملک نے کمیٹی کو وضاحت پیش کی کہ مجھے یا محکمے کو عمران خان نے کوئی فون نہیں کیا،

ایم کیو ایم پاکستان کے سینیٹر میاں عتیق کا کہنا تھا کہ 26منٹ میں سیکرٹری داخلہ کےدفتر سے لیٹر جاری ہوا، زلفی بخاری نے عدالت میں دائر درخواست میں لکھا کہ عمران خان نے سیکرٹری داخلہ کو فون کیا اور پھر بیرونِ ملک روانگی ممکن ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: مجھے باہر بھجوانے کے لیے عمران خان نے کسی کو فون نہیں کیا، زلفی بخاری

اسی سے متعلق: نگراں وزیراعظم نے زلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے پر رپورٹ طلب کرلی

اُن کا کہنا تھا کہ ملک میں آج سے پہلے اس طرح کا واقعہ رونما نہیں ہوا، ملکی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی کہ کسی بھی ایسے شخص کو سفر کی اجازت دی جائے جس کا نام بلیک لسٹ میں ہو کیونکہ ایسے شخص کو قانون کے تحت فلائٹ لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے زلفی بخاری کے معاملے پر وزارتِ داخلہ سے کل تک رپورٹ طلب کرلی۔ اس ضمن میں جاوید عباسی کا مزید کہنا تھاکہ فون کال کس کی آئی اور بلیک لسٹ سے نام نکالنے کے لیے کس نے خط لکھا ؟ وزارتِ داخلہ تمام تر حقائق اور طریقہ کار کمیٹی کے سامنے پیش کرے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں