اسلام آباد: ذوالفقارعلی بھٹو کو قومی شہید قرار دینے کی قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کردی گئی، قرارداد پیپلز پارٹی کے ارکان کی جانب سے پیش کی گئی۔
پیپلزپارٹی کے ارکان کی پیش کردہ قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ ذوالفقارعلی بھٹو نے جمہوریت، قومی یکجہتی اورعوامی حقوق کیلئے قربانی دی، 4 اپریل 1979 کو متنازع عدالتی عمل کے تحت انھیں پھانسی دی گئی۔
قرارداد کے متن میں مزید کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے حال ہی میں قرار دیا ہے ذوالفقار بھٹو کو منصفانہ ٹرائل نہیں ملا، ذوالفقارعلی بھٹو کو سرکاری سطح پر "قومی شہید” تسلیم کیا جائے۔
متن مطالبہ کیا گیا کہ وفاقی حکومت ذوالفقارعلی بھٹو کی شہادت کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرے، تعلیمی نصاب اور قومی ریکارڈ میں ذوالفقار بھٹو کی خدمات شامل کی جائیں۔
دریں اثنا پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سابق رہنما شیر افضل مروت نے بھی کہا کہ ذوالفقار بھٹو شہید کیلئے قرارداد آئی، ہونا چاہیے تھا ایوان مشترکہ طو رپر منظورکرتی۔
شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ کی باتیں ہورہی ہیں، میرے خاندان نے قربانیاں دیں، راجہ پرویزاشرف کی تقریر میں جو شور ہورہا تھا ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔
انھوں نے کہا کہ زندگی ایسے چل رہی ہے پتہ ہی نہیں چلتا کہ خوشی کیا ہوتی ہے، بانی پی ٹی آئی غلط جیل میں ہیں سب کو پتہ ہے۔
شہید ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کا ذکر کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی آبدیدہ


