The news is by your side.

Advertisement

ذوالفقارعلی بھٹو کی 41 ویں برسی، گڑھی خدا بخش میں تقریب منسوخ

کراچی : پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو کی اکتالیس ویں برسی آج انتہائی سادگی سے منائی جارہی ہے تاہم کورونا وائرس کے پیش نظر گڑھی خدا بخش میں برسی کی تقریب منسوخ کردی گئی۔

تفصیلات کے مطابق پیپلزپارٹی کے بانی و چیئرمین سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی اکتالیسویں برسی آج ملک بھر میں انتہائی سادگی سے آج منائی جائے گی۔

 

اس موقع پر پی پی کے زیراہتمام انفرادی طور پر دعائیہ تقریبات منعقد ہوں گی۔ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی عالمی وبا کے پیش نظر گڑھی خدا بخش میں مرکزی تقریب کا انعقاد نہیں کیا جائے گا۔

آج سے 40 سال قبل ملک کے پہلے منتخب وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تھی ۔ یہ سزا کیوں دی گئی؟ یہ بات آج بھی بہت سارے لوگوں کے علم میں درست طور پر نہیں ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو نے سیاست کا آغاز اُنیس سو اٹھاون میں کیا اور پاکستان کے پہلے آمر فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان کے دورِ حکومت میں وزیر تجارت، وزیر اقلیتی امور، وزیر صنعت وقدرتی وسائل اور وزیر خارجہ کے قلمدان پر فائض رہے، ستمبر 1965ءمیں انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کا موقف بڑے بھرپور انداز سے پیش کیا۔

جنوری 1966ءمیں جب صدر ایوب خان نے اعلان تاشقند پر دستخط کیے تو ذوالفقار علی بھٹو بڑے دلبرداشتہ ہوئے اور اسی برس وہ حکومت سے علیحدہ ہوگئے، اُنہوں نے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں مسئلہ کشمیر کو مرکزی حیثیت دی۔

پیپلزپارٹی کا دورِ حکومت ختم ہونے کے بعد اُنیس سو ستتر کے عام انتخابات میں دھاندلی کے سبب ملک میں حالات کشیدہ ہوئے، جس کے نتیجے میں پانچ جولائی اُنیس سو ستتر کو جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء نافذ کردیا۔

ملک میں ہونیوالے مظاہروں کے نتیجے میں قائدِ عوام کو دوبار نظر بند کرکے رہا کیا گیا تاہم بعدازاں ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کے ایک مقدمہ میں گرفتار کرلیا گیا اور 18 مارچ 1977ءکو انہیں اس قتل کے الزام میں موت کی سزا سنادی گئی اور یہ قتل کا مقدمہ اس وقت کے رکن قومی اسمبلی احمد رضا قصوری کے والد نواب محمد احمد خان قصوری کے قتل کا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں