The news is by your side.

Advertisement

چیف جسٹس کو اختیار نہیں کہ وہ ہمیں طعنے دیں بس بہت ہوگیا، احسن اقبال

اسلام آباد:وزیر منصوبہ بندی و داخلہ احسن اقبال نے عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی جج محب وطن ہے تو سیاست دان بھی محب وطن ہیں، اگر میں نے کسی پر غلط الزام لگایا توثبوت دیں توہین نہ کریں،چیف جسٹس کو اختیار نہیں کہ وہ ہمیں طعنے دیں بس بہت ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں وزیر منصوبہ بندی و داخلہ احسن اقبال نے سی پیک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت بڑھی ہے، شاید ہی کوئی ملک ہوجو سی پیک میں سرمایہ کاری کا نہ سوچ رہاہو، امریکا اوریورپ سب سی پیک میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ بلوچستان اورجنوبی پنجاب میں خود ساختہ گروپ بنائے جارہےہیں، پیٹریاٹ گروپ کا سکہ پرانا ہوگیا ہے، اب ایم ایم اے کا خیال بھی پرانا ہوچکا، گوادرکا ماسٹرپلان ہانگ کانگ سے بھی بہتربنایاجائیگا، گوادرکےاردگردسڑکوں کاجال بچھارہے ہیں۔

وزیر منصوبہ بندی و داخلہ نے کہا کہ پاکستان نےمعاشی ترقی کے 2کیچ چھوڑ دیئے، 60کی دہائی میں ترقی کا سفر روک دیا گیا تھا پھر 90کی دہائی میں معاشی اصلاحات کا سفر روک دیا گیا، عقل کے اندھوں کو کون سمجھائے ترقی رابطوں سے ہوتی ہے، پاکستان کے سیاستدان کیا بھارت سے بھی گئے گزرے ہیں۔

احسن اقبال کا چیف جسٹس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اگر کوئی جج محب وطن ہے تو سیاست دان بھی محب وطن ہیں، اگر میں نے کسی پر غلط الزام لگایا توثبوت دیں توہین نہ کریں۔

انھوں نے مزید کہا کہ چیف جسٹس کو گالیاں دینے کا اختیار نہیں ہے، جناب چیف جسٹس دل بڑا کریں ، چیف جسٹس نےالزام لگایا تقرری میں احسن اقبال کا ہاتھ ہے ، چیف جسٹس صاحب کے پاس ثبوت ہیں تو چارج شیٹ کریں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کو اختیار نہیں کہ وہ ہمیں طعنے دیں بس بہت ہوگیا، ہم نے ہمیشہ باعزت طریقے سے سیاست کی ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں