The news is by your side.

Advertisement

عزیز میاں قوال: اولیا اور صوفیا کا ارادت مند، فلسفے کا شایق!

نام اُن کا عبدالعزیز تھا، مگر دنیا بھر میں عزیز میاں مشہور ہیں۔ کہتے ہیں لفظ میاں ان کا تکیۂ کلام تھا جو بعد میں ان کے نام ہی کا حصّہ بن گیا۔

یہ فنِ قوالی کے بے تاج بادشاہ کا تذکرہ ہے جن کی 19 ویں برسی آج منائی جارہی ہے۔ قوالی کے شیدا عزیز میاں کے دیوانے ہیں۔ اس کی وجہ ان کا منفرد انداز اور جذب و مستی کی وہ کیفیت ہے جس میں‌ ان کی برگزیدہ ہستیوں، اولیا و صوفیا سے عقیدت جھلکتی ہے۔

عزیز میاں کی آواز نہایت بارعب اور انداز دل کش تھا۔ وہ اس فن کے شہنشاہ کہلائے. پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں عزیز میاں کا نام نہایت عزت اور احترام سے لیا جاتا ہے۔

آئیے ان زندگی کے اوراق الٹتے ہیں۔
دہلی میں 17 اپریل 1942 کو آنکھ کھولی۔ انھوں نے عربی، فارسی اور اردو میں ایم اے کی ڈگریاں لیں۔ عزیز میاں مطالعہ کا شوق رکھتے تھے۔ فلسفہ اور صوفی ازم ان کا محبوب موضوع رہا۔ اس حوالے سے مباحث میں ان کی گفتگو سننے والے ان کی علمیت کا اعتراف ضرور کرتے۔

قوالی کے فن اور اس کی باریکیوں کو انھوں‌ نے معروف استاد عبدالوحید سے سمجھا اور سیکھا۔ عزیز میاں شاعر بھی تھے۔ کئی قوالیاں ان کی تخیل کا نتیجہ اور عقیدت کا دل رُبا نقش ہیں۔ انھیں‌ حکومت نے تمغۂ حسنِ کارکردگی سے نوازا تھا.

یہ قوالیاں‌آپ کے حافظے میں ضرور محفوظ ہوں گی۔

‘‘اللہ ہی جانے کون بشر ہے، یا نبی یا نبیﷺ۔’’ آج بھی یہ قوالیاں نہایت ذوق و شوق سے سنی جاتی ہیں۔

اسی طرح ‘‘شرابی میں شرابی’’ بھی ان کی مشہور ترین قوالی ہے۔ انھوں نے کئی نعتیں اور اپنے دور کے مشہور شعرا کا کلام بھی مختلف انداز سے پیش کر کے اس فن میں اپنا کمال ثابت کیا۔

‘‘ نہ کلیم کا تصور، نہ خیالِ طورِ سینا، میری آرزو محمدﷺ، میری جستجو مدینہ’’ جیسے نعتیہ اشعار بھی عزیز میاں کی آواز میں بہت مشہور ہوئے۔

ان کی زندگی کا سفر 6 دسمبر کو تمام ہوا۔ یہ سن 2000 کی بات ہے جب مختصر علالت کے بعد عزیز میاں خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ انتقال کے وقت ان کی عمر 58 برس تھی۔ وصیت کے مطابق عزیز میاں کو ملتان میں مرشد کے پہلو میں دفن کیا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں