بوسنیا میں مسلمانوں کا قتل عام، سابق جنرل نے عدالت میں خود کشی کرلی bosnia
The news is by your side.

Advertisement

بوسنیا میں مسلمانوں کا قتل عام، سابق جنرل نے عدالت میں خود کشی کرلی

دی ہیگ : بوسنیا میں مسلمانوں کے خلاف جنگی جرائم میں سابق جنرل سلوبودان پرالجک نے مقدمے کی سماعت کے دوران زہر پی لیا جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ جانبر نہیں ہوسکے.

تفصیلات کے مطابق نیدر لینڈ میں قائم عالمی عدالت انصاف اقوام متحدہ کی عدالت میں اُس وقت پریشان کن صورت حال پیدا ہو گئی جب 72 سالہ سلو بودان پرالجک نے سماعت کے دوران اپنے ہمراہ لائی ہوئی شیشے کی بوتل میں موجود محلول پی لیا اور بے ہوش ہوگئے جس کے بعد انہیں اسپتال لے جایا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے.

ذرائع کے مطابق سابق جنرل نے اس وقت زہر پی لیا جب انہیں جنگی جرائم کے مقدمات کی سماعت کے دوران 20 سال کی قید سزا سنائی گئی اس سے قبل انہوں نے اپنے خلاف الزامات سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے کوئی خلاف قانون کام نہیں کیا ہے چنانچہ اس سزا پر اپنی زندگی خود ختم کرتا ہوں.

یاد رہے کہ 1992 سے 1995 کے دوران بوسنیا میں مسلمانوں کی نسل کشی کی گئی اور ہزاروں مسلمان خواتین، بزرگوں اور بچوں کو بربریت کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کی ذمہ داری اس وقت کے بوسنیائی جنرل سلوبودان پرالجک پر عائد کی گئی تھی اور وہ انہی جنگی جرائم مین ملوث ہونے پر مقدمات کا سامنا کررہے تھے.

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں