The news is by your side.

Advertisement

بریگزٹ ڈیل : برطانوی ممبران پارلیمنٹ نے فیصلے میں تاخیر کے حق میں ووٹ دے دیا

لندن : برطانوی ممبران پارلیمنٹ نے بریگزٹ ڈیل کے فیصلے میں تاخیر کے حق میں ووٹ دے دیا، وزیراعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ بریگزٹ میں تاخیر پر یورپی یونین سے مزید کوئی بات نہیں ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق یورپی یونین کے ساتھ ڈیل کرنے والے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو ایک بار پھر بڑا دھچکا لگ گیا، برطانوی پارلیمنٹ کے ممبران نے یورپی یونین کے ساتھ معاہدے کو ملتوی کرنے کے حق میں ووٹ دے دیا۔

برطانوی حکومت کو پارلیمان میں شکست کے بعد بریگزٹ اب مزید تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔ اس موقع پر برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بریگزٹ میں تاخیر پر اب یورپی یونین سے مزید کوئی بات نہیں ہوگی، کوئی قانون مجھے اس کام پر مجبورنہیں کرسکتا۔

بورس جانسن نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معنی خیز ووٹ حاصل کرنے کا موقع ضائع ہو گیا، حکومت یورپی یونین چھوڑنے کے لیے قانون سازی متعارف کرائے گی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یورپی یونین نے برطانیہ پر بریگزٹ کے حوالے سے اگلا لائحہ عمل جلد پیش کرنے پرزور دیا ہے جبکہ فرانس کا کہنا ہے کہ نئی بریگزٹ ڈیل میں تاخیر کسی کے لیے بہترنہیں ہے۔

یاد رہے کہ برطانوی ایوان میں بریگزٹ پر لیٹ ون ترمیم کے معاملے پر ووٹنگ ہوئی جسے برطانوی پارلیمان نے مسترد کردیا،بریگزٹ کی تاخیرکے حق میں322 اور مخالفت میں 306 ووٹ پڑے، ایوان میں اگرمذکورہ ترمیم منظور کرلی جاتی تو نئی ڈیل کی منظوری قانون سازی کے ذریعے کی جانی تھی۔

مزید پڑھیں: یورپ نے نئی بریگزٹ ڈیل پر رضامندی ظاہر کر دی

واضح رہے کہ برطانیہ کو 2016 کے ریفرنڈم کے مطابق 29 مارچ کو یورپی یونین سے علیحدہ ہونا تھا تاہم ہاؤس آف کامنز کی جانب سے متعدد مرتبہ بریگزٹ معاہدے کی منسوخی کے باعث بریگزٹ میں 12 اپریل توسیع کی گئی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں