The news is by your side.

Advertisement

سوا لاکھ ڈالر میں خلائی سفر ممکن ہو گیا

فلوریڈا: ایک امریکی فضائی کمپنی نے عام لوگوں کے لیے تاریخ میں پہلی بار خلائی سفر کو مناسب قیمت میں ممکن بنا دیا۔

تفصیلات کے مطابق اب سوا لاکھ ڈالر میں خلائی سفر ممکن ہو گیا ہے، یہ سفر ہائیڈروجن سے چلنے والے ایک بڑے غبارے میں کیا جائے گا، جو فضا کی بلندیوں تک پرواز کر سکتا ہے۔

انسانی تاریخ میں پہلی بار کم قیمت میں خلائی ٹور کرانے کی یہ پیش کش فلوریڈا میں قائم اسپیس ٹورازم کمپنی اسپیس پریسپکٹیو (Space Perspective) نے کی ہے، کمپنی نے اعلان کیا کہ گرم ہوا کے غبارے کے ذریعے فضائی غلاف تک ایک لاکھ 25 ہزار ڈالر میں سیر کرایا جائے گا۔

یہ سفر 6 گھنٹے پر مبنی ہوگا، 2 گھنٹے میں یہ 32 کلو میٹر کی بلندی پر پہنچے گا، اور پھر دو گھنٹے تک غبارہ زمین کے اوپر تیرے گا، اس کے بعد دو گھنٹوں میں یہ نیچے اترے گا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ نیپچون خلائی جہاز پر سوار ہو کر لوگ ایک لگژری سفر کا تجربہ کر سکیں گے، اور یہ اس حوالے سے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا، اس خلائی سفر کے دوران مسافر گرم ہوا کے غبارے میں گھومنے والی کرسیوں اور پینورامک کھڑکیوں کی مدد سے زمین اور خلا کے نظاروں سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔

جون 18 کو نیپچون ون نامی اس غبارے نے ٹیسٹ فلائٹ کامیابی سے مکمل کی تھی، جس کے بعد کمپنی نے 2024 سے باقاعدہ سفر کے لیے بکنگ شروع کر دی، کمپنی کے مطابق 2024 کی پروازیں ابھی سے فروخت ہو چکی ہیں اور اب 2025 کی فلائٹس کی فروخت جاری ہے۔

لگژری سفر کے دوران غبارے میں تمام ضروری سہولتیں میسر ہوں گی، مشروبات کا انتظام ہوگا، ٹوائلٹ بھی بنائے گئے ہیں، واضح رہے کہ عام طور سے اس طرح کا خلائی سفر بہت زیادہ لاگت طلب ہوتا ہے، عام اسپیس راکٹ میں یہ سفر اس لیے مہنگا ثابت ہوتا ہے کہ اسے لانچ کرنے کے لیے لاکھوں پاؤنڈ کے ایندھن کی ضرورت پڑتی ہے۔

اس نئے فضائی سفرمیں ایک ٹرپ میں صرف 8 افراد کے غبارے میں سوار ہونے کی گنجائش ہے، اور یہ غبارہ ساڑھے 600 فٹ اونچا ہے جو ہائیڈروجن گیس کے ذریعے خلا میں اڑنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں