The news is by your side.

Advertisement

آفاقی عشق کی لازوال داستاں – دوام

ایک ہفتے بعد وہ پوری طرح ہوش میں آئی تھی۔۔ اُس کے پورے جسم میں صرف آنکھیں تھیں۔۔ جنھیں وہ جنبش دے سکتی تھی اور باقی سارا جسم جیسے بے جان تھا ۔۔ ڈاکٹرز اور نرسیں کئی روز تک ۔۔منتہیٰ کے پاس آکر اسے جھوٹی تسلیاں اور تھپکیاں دیکرجاتے رہے ۔۔ دس دن بعد اپنے پاس جو پہلا شناسا چہرہ اُسے نظر آیا ۔۔۔ وہ ۔۔ ارمان یوسف تھا ۔۔ بڑھی ہوئی شیو ۔۔ ستا ہوا چہرہ۔۔ اور سرخ متورم آنکھیں اُس کے رت جگوں کی گواہ تھیں ۔۔۔ منتہیٰ اُس سے نظر ملانے کی ہمت ہی نہیں کرسکی ۔۔ سرابوںکے تعاقب میں جس شخص کو اُس نے سب سے پہلے چھوڑا تھا ۔۔۔ وہ آج کڑے وقت پر سب سے پہلے آیا تھا ۔
جس کی آنکھوں سے چھلکتے درد کو پڑھنے کے لیئے آج منتہیٰ دستگیر کو کسی عدسے کی ضرورت ہر گز نہیں تھی ۔۔ کامیابیوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے وہ بھول گئی تھی کہ وقت کی تلوار بہت بے رحم ہے ۔۔ اور دنیا میں ہر عروج کو زوال ہے ۔۔۔’’ یقیناًیہ بد نصیبی کی انتہا ہوتی ہے کہ انسان اپنے در پر آئی اللہ پاک کی رحمت کو ٹھکرا دے ۔۔ سچی محبت اور نیک جیون ساتھی عورت کے لیے اللہ کا بہت بڑا انعام ہوتے ہیں ۔۔ لوگ کہتے ہیں کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے لیکن دنیا کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ عروج کی چوٹیوں کو سر کرنے والی ہر عورت کے پیچھے ایک نہیں ۔۔ کئی مردوں کا ہاتھ ہوتا ہے ۔۔فاروق صاحب۔ ڈاکٹر یوسف اور پھر ارمان ۔۔ خدا نے اُسے یہ تین مضبوط ستون عطا کیے تھے ۔


اسی ناول کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں


مگر سارا کریڈٹ خود بٹورنے کی دُھن میں منتہیٰ نے منہ کی کھائی تھی ۔‘‘
زندگی اتفاقات ، واقعات اور حادثات کا مجموعہ ہے ۔۔ کوئی نہیں جانتا کہ کب کون سا واقعہ یا حادثہ آپ کو کسی بند گلی کے موڑ پر لیجا کر چھوڑ دیگا ۔۔جہاں اسے ایک بے مصرف زندگی گزارنی پڑے گی۔۔ ایک کامیاب ترین زندگی سے ایک بے مصرف وجود تک پہنچ جانے میں انسان پر کیا کچھ بیت جاتی ہے ۔۔یہ وہی جان سکتا ہے جو اِن حالات سے گزرے۔۔ تب زندگی گزارنے اور اِسے بیتنے کااصل مفہوم سمجھ میں آتا ہے ۔۔۔
پہلے اُس کے پاس زندگی کو سمجھنے کا وقت نہیں تھا ۔۔ اور اَب ۔۔ جب وقت ملا تھا ۔۔ تو زندگی اُس سے روٹھ گئی تھی ۔

***********

اجنبی شہر کے اجنبی راستے میری تنہائی پر مسکراتے رہے ۔۔۔
میں بہت دیر تک یونہی چلتا رہا ، تم بہت دیر تک یاد آتے رہے۔۔

دو ماہ پہلے پیل لیک کے کنارے کاٹی ایک رات اُس کی زندگی کی کھٹن ترین راتوں میں سے ایک تھی ۔۔اور آج پھر ارمان کو ایک ایسی ہی رات کا سامنا تھا ۔۔ فرق صرف یہ تھا ۔۔۔اُس رات ۔۔ جس دشمنِ جاں نے رلایا تھا اور آج اُسی کے دکھ میں آنسو چھلکے تھے ۔۔
صبح اُس کی منتہیٰ کے ڈاکٹرز کے ساتھ فائنل میٹنگ تھی ۔۔ ڈاکٹرز کو سپائنل چورڈ کی ایم آر آ ئی رپورٹ کا انتظار تھا کیا وہ عمر بھر کے لیے معذور ہوجا ئیگی ۔۔۔ ؟؟ یہ سوال ۔۔ عجیب دیوانگی اور وحشت میں وہ شدید ٹھنڈ میں اسپتال سے نکلا تھا ۔۔یونہی سڑکوں پر دھول اُڑاتے اُس نے ساری شام کاٹی ۔۔ یہ دُھول تو شاید اب اُس کے مقدر میں لکھ دی گئی تھی۔۔

زہر ملتا رہا ‘ زہر پیتے رہے روز مرتے رہے روز جیتے رہے۔۔
زندگی بھی ہمیں آزماتی رہی اور ہم بھی اسے آزماتے رہے ۔۔

بے د ھیانی میں زور سے ٹھوکر لگنے پر ارمان منہ کے بل گرا ۔۔ اُس نے گرد آلود آنکھوں کو مسل کر دیکھا۔۔ سامنے ہاسٹن کا اِسلامک سینٹر تھا ۔۔ وہ آیا نہیں تھا ۔۔ لایا گیا تھا ۔۔ وضو کر کے وہ چپ چاپ امام صاحب کے گردلوگوں کے گروپ میں جا بیٹھا ۔۔جن کی شیریں آواز سماعتوں میں رَس گھول رہی تھی ۔۔۔

’’جو لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیںُ ان کے لیئے ہدایت اور نصیحت ہے ، دل شکستہ نہ ہو ۔۔ یہ تو زمانے کے نشیب و فراز ہیں جنھیں ہم لوگوں میں گردش دیتے رہتے ہیں ۔۔ تم پر یہ وقت اِس لیئے لایا گیا کہ اللہ تعالیٰ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم میں سچے مومن کون ہیں ۔۔ ‘‘ ( سورۂ الِ عمران) ۔

خدا کی اِس وسیع و عریض کائنات کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ یہاں ہر شے متحرک ہے۔۔ ہر رات کہ بعد سحر اگر خدا کا قانون ہے ، تو ہر آسائش کے بعد تکلیف اور ہرُ دکھ کے بعدُ سکھ کی گھڑی بھی اِسی اللہ کے حکم سے میسر آتی ہے زندگی دھوپ چھاؤں کا کھیل ہے ۔۔ ہر وہ شخص جس نے اچھا وقت دیکھا ہو ۔۔ اُسے کبھی نہ کبھی بدترین حالات کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے۔۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کے اعمال سے کچھ لینا د ینا نہیں ۔۔ وہ ہر شے سے بہت بلند ہے ۔
امام صاحب ایک لمحے توقف کو رکے ۔۔

”آپ کی زندگی میں آنا والا برا وقت خدا نخواستہ آپکے اعمال پر اللہ کا عذاب نہیں ہوتا ۔کبھی یہ محض ایک اشارہ ہوتا ہے کہ آپ بھٹک کر کہیں اور نکلنے لگے ہیں ۔۔ تو اپنی اوقات، اپنی اصل پر واپس آجائیے ۔کبھی یہ آزمائش ہوتی ہے ۔ جس طرح لوہا آگ میں تپ کر اور موتی سیپ میں ایک متعین وقت گزار کر باہر آتا ہے ۔اِسی طرح ہر انسان کے اندر چھپی اُس کی ہیرا صفت خصلتیں آزمائشوں کی کھٹالی سے گزر کر کچھ اور نکھر کر سامنے آتی ہیں اور اِس کھٹالی سے یقیناًوہی کندن بن کر نکلتے ہیں ۔جن کا ایمان اورتوکل خالص اللہ تعالیٰ پرہوتا ہے۔ “وقت کبھی رکتا نہیں گزر جاتا ہے لیکن کچھ گھڑیاں ، کچھ ساعتیں ، کچھ آزمائشیں اپنے پیچھے اَن مٹ نقوش چھوڑ جاتی ہیں۔اور یقیناً فلاح وہی پاتے ہیں جو صرف اپنے رب سے مانگتے ہیں اور وہ اپنے ہر بندے کی یکساں سنتا ہے ۔۔”بے اختیار ارمان کے ہاتھ دعا کے لیئے اٹھے تھے ۔۔ اور ۔۔ دل کی گہرائیوں سے اَوروں کے لیئے مانگی جانے والی دعائیں اللہ تعالیٰ کے دربار سے کبھی رَد نہیں ہوا کرتیں ۔

***********

منتہیٰ کے پاس سے کچھ دیر پہلے نینسی گئی تھی ۔۔ اُس نے کسلمندی سے آنکھیں موندی ہی تھیں کہ دروازہ کھلا۔۔ اور ارمان داخل ہوا ۔۔ اُس کے ہاتھ میں خوبصورت سا بُوکے تھا ۔
آل اِز ویل ہر گز نہیں تھا ۔ مگر منتہیٰ کی ایم آر آئی حیرت انگیزطور پر کلیئر آئی تھی ۔ بیس ہزار فٹ کی بلندی سے گرنے کے بعد ریڑھ کی ہڈی کا سلامت رہنا یقیناً ایک معجزہ تھا ۔لیکن اُس کی بائیں ٹانگ میں دورانِ خون بند تھا ۔۔ وقتی یا عمر بھر کی معذوری تلوار ہنوز سر پر لٹکی تھی ۔۔ لیکن ہمت توکرنا تھی ۔ ارمان ۔ آپ کو ڈاکٹرز نے ایم آر آئی رپورٹ دیکھ کر کیا بتایا ہے ۔۔؟؟ آئرن لیڈی ہر نا گہانی کے لیے خود کو تیار کیے بیٹھی تھی ۔ ارمان کھڑکی کے قریب کھڑا تھا اور منتہیٰ کی طرف اُس کی پشت تھی ۔۔ وہ مڑا ۔۔ اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اُس کے بیڈ تک آیا ۔۔
ڈونٹ وری منتہیٰ ۔۔ آپ کی ایم آر آئی بالکل ٹھیک آئی ہے ۔۔ اور باقی باڈی انجریز سے صحت یاب ہونے میں آپ کو چارسے چھ ماہ کا عرصہ لگے گا۔۔ وہ آدھا سچ بتا کر آدھا چھپا گیا ۔
منتہیٰ نے بہت غور سے اُسے دیکھا ۔۔ وہ ہمیشہ کا گُھنا تھا ۔۔ اندر کا حال پتا ہی نہیں لگنے دیتا تھا ۔ وہ گھنٹوں اسپتال میں اُس کے پاس یوں گزارتا ۔۔ جیسے سارے کاموں سے فارغ بیٹھا ہو ۔۔نیوز پڑھ کے سناتا ۔۔ کبھی ایس ٹی ای کے پراجیکٹس کی تفصیلات بتاتا ۔۔ کبھی لیپ ٹاپ لے کر بیٹھ جاتا اور ایسٹرانامی پر اس کی پسند کے آرٹیکلز سرچ کرتا۔۔
منتہیٰ کو ہاسپٹل میں دو ماہ ہونے کو آئے تھے ۔۔ اُس کے فریکچرز تیزی کے ساتھ بہترہو رہے تھے لیکن ڈسچارج ہونے کے بعد بھی ایک لمبے عرصے تک اُسے ایکسر سائز اور ٹریٹمنٹس کی ضرورت تھی ۔۔جس کے لیے اس کے پاس کسی کا موجود ہونا ضروری تھا ۔ منتہیٰ فی الحال سفر کے قابل نہیں تھی اِس لیے فاروق صاحب ، رامین کو اس کے پاس ہاسٹن بھیج رہے تھے۔۔ رامین کی چند ماہ بعد رخصتی طے تھی ۔۔۔ مگر فی الحال اُن سب کے لیے سب سے بڑا مسئلہ منتہیٰ کی صحت یابی تھی ۔

***********

اُن کا ہیلی کاپٹر تقریباً۲۱ ہزار فٹ کی بلندی پر تھا ۔ اِس سے پہلے منتہیٰ کی ساتھی ٹرینر مارلین ۔ نندا اور ربیکا اِسی بلندی سے چھلانگ لگا چکی تھیں اور نیچے اُن کے پیرا شوٹ چھتریوں کی طرح گول گول گھومتے نظر آ رہے تھے ۔’’ون ۔۔ ٹو۔ ۔ تھری ‘‘۔۔
اور پھر انسٹرکٹر کے ا شارے پر منتہیٰ نے جمپ لگائی ۔۔۔ بچپن سے امی اور دادی کی ہر کام بسم اللہ پڑھ کر شروع کرنے کی ہدایت آج بھی اُس کے ساتھ تھی ۔
تقریباًپندرہ ہزار فٹ کی بلندی پر آکر انہیں پیرا شوٹ کھولنے کی ہدایت دی گئی تھی ۔۔ ایک ، دو ، تین ۔۔۔ ہر دفعہ بٹن دبانے پر صرف کلک کی آواز آئی ۔۔۔ شدید گھبراہٹ میں اُس نے نیچے چودہ ہزار فٹ کی گہرائی کو دیکھا ۔۔
’’ہیلپ می اللہ ۔۔ ہیلپ می اللہ۔۔۔‘‘
دو مہینے میں یہ خواب شاید اُسے دسویں بار نظر آیا تھا ۔۔ وہ دوپہر کی سوئی تھی ۔۔اوراب مغرب کا وقت تھا۔۔ اُس نے آنکھیں کھول کر اِدھر اُدھر دیکھا ۔۔۔ بیڈ سے کچھ فاصلے پر۔۔ ارمان جانما ز پر دعا کے لیئے ہاتھ پھیلائے بیٹھا تھا۔۔ منتہیٰ یک ٹک اسے دیکھے گئی ۔۔۔ دو ۔۔ پانچ ۔۔ پورے دس منٹ بعد اُس نے چہرے پر ہاتھ پھیر کر جا نماز لپیٹی اور پلٹا۔۔ منتہیٰ کو یوں اپنی جانب دیکھتا پاکر چونکا ۔۔۔
آپ کب جاگیں منتہیٰ۔۔؟؟۔۔ وہ آج بھی پہلے کی طرح احترام سے اُس کا نام لیتا تھا ۔ لیکن منتہیٰ کچھ کہے بغیر چپ چاپ چھت کو گھورتی رہی ۔۔ وہ کچھ قریب آیا
کیا بات ہے منتہیٰ طبیعت تو ٹھیک ہے نا ۔۔ ٹمپریچر تو نہیں ۔۔؟؟
اور پیشانی پرُ اس کے لمس نے جیسے منتہیٰ کی ساری حسیات بیدار کردی تھیں ۔۔ بہت دنوں سے ۔۔ بہت سے رکے ہوئے آنسوؤں نے ایک ساتھ باہر کا راستہ دیکھا ۔
اور ارمان اپنی جگہ گنگ تھا ۔۔۔ یہ آنسو ۔۔ اُس کے لیے اجنبی تھے ۔۔ آئرن لیڈی کبھی روئی ہی نہ تھی ۔۔ منتہیٰ۔۔ کیا بات ہے ۔۔ درد بڑھ گیا ہے کیا ۔۔؟؟ ۔۔وہ سمجھنے سے قاصر تھا۔
ار۔۔ارمان۔۔وہ اَٹکی اندر بہت کچھ۔ بہت پہلے ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو چکا تھا ۔۔ بس ایک اعتراف ۔ایک معافی ۔۔
’’ارمان مجھے معاف کر دیں ‘‘۔۔۔ہچکیوں کے درمیان بہ مشکل ارمان کو اُس کے الفاظ سمجھ میں آئے۔۔ اُس نے سختی سے آنکھیں بھینچ کر گہرا سانس لیا ۔۔۔ منتہیٰ کو یوں روتے دیکھنا ۔۔ اُس کے لیے دو بھر تھا ۔۔
آنسو نہ کسی کی کمزوری کی علامت ہوتے ہیں ۔۔ نہ کم ہمتی کی ۔۔ اشک بہہ جائیں تو من شانت ہو جاتا ہے ۔۔ رکے رہیں تو اندر کسی ناسور کی طرح پلتے رہتے ہیں ۔۔ پانی اگر ایک لمبے عرصے تک کسی جوہڑ یا تالاب میں رکا رہے تو گدلا اور بد بو دارہو جاتا ہے ۔
ارمان نے اُسے رونے دیا ۔۔۔۔ وہ کھڑکی کے پاس کھڑا تھا ۔۔ اپنے سیل کی مدہم سی بیپ پر وہ کمرے سے باہر آیا ۔۔

***********

یار تجھے اپنی جاب کی کوئی فکر ہے یا نہیں ۔۔؟؟ ۔۔دوسری طرف اَرحم ۔۔ چھوٹتے ہی برحم ہوا ۔۔۔ آج فائنل نوٹس آ گیا ہے ۔ اگر تو نے ایک ہفتے تک آفس جوائن نہیں کیا تو ۔۔ تیری چھٹی ہے سمجھا تو ۔۔
ارمان نے گہری سانس لیکر دیوار سے ٹیک لگایا ۔۔ وہ مجنوں تھا نہ رانجھا ۔ کہ اپنی ہیر کے لیے بن باس لے کر بیٹھا رہتا ۔۔
پاکستان میں ٹیلی کام سیکٹر میں ایک بہترین جاب ۔۔ ہر نوجوان کا خواب تھی ۔۔
میں اِسی ہفتے پاکستان آجاؤں گا ۔۔ ارمان نے اَرحم کو مطلع کیا
دیٹس گڈ ۔۔ پر تیری ہیر کا کیا ہوگا ۔۔؟؟
منتہیٰ کے پاس چند روز تک رامین آجائے گی ۔
چل یہ تو اچھا ہوا ۔۔۔ یہ بتا کہ وہ پاکستان کب تک آسکیں گی ۔۔۔؟؟
پاکستان وہ کیوں آئیں گی ۔۔ صحت یاب ہوکر وہ واپس ناسا کے مشن پر جائیں گی ۔۔ اُن کو اپنے خواب جو پورے کرنے ہیں
نہ چاہتے ہوئے بھی وہ تلخ ہوا ۔۔
اور تیرا کیا ہوگا پیارے ۔۔؟؟۔۔ تو جو دو ماہ سے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ہاسپٹل کا ہوا بیٹھا ہے ۔۔۔ اُ ن کی زندگی میں تیری جگہ ۔۔
کدھر ہے۔۔۔؟؟؟
اَرحم ۔۔۔کلوز دس ٹا پک پلیز۔۔ وہ برحم ہوا ۔۔ یہ اس کی دھکتی رگ تھی ۔۔ ہر زخم تازہ تھا ۔۔۔ کچھ بھی تو مند مل نہیں ہوا تھا ۔۔
مگر وہ دشمنِ جاں شدید اذیت میں تھی ۔۔۔اور اب ۔۔ ایک گہری چوٹ کھا کر نادم بھی ۔۔۔
ہر فیصلہ وقت کے ہاتھوں چھوڑ کر وہ ہاسپٹل سے فلیٹ چلا آیا ۔۔ ۔ جو اس نے ایس-ٹی-ای کے کچھ امریکی سپانسرز کی مدد سے حاصل کیا تھا ۔۔۔اُسے اب پیکنگ کرنا تھی ۔۔ اِس فلیٹ میں چند دن بعد منتہیٰ نے رامین کے ساتھ منتقل ہوجانا تھا۔

جاری ہے
***********

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں